برطانوی جوہری پلانٹ کے لیے چین کو دو ارب پاؤنڈ کی ضمانت

ہنکلے پوائنٹ پاور پلانٹ

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنای ڈی ایف نے ہنکلے میں سرمایہ کاری سے انکار کیا تھا

برطانیہ کے وزیرِ خزانہ جارج اوزبورن نے کہا ہے کہ ہنکلے پوائنٹ جوہری پاور پلانٹ میں سرمایہ کاری کے لیے برطانیہ چین کو دو ارب پاؤنڈ کی ضمانت دے گا۔

جارج اوزبورن اس وقت چین میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس معاہدے سے تعطل شدہ منصوبے میں سرمایہ کاری کے فیصلے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ فرانسیسی کمپنی ای ڈی ایف نے اس پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کرنے سے انکار کیا تھا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے سے برطانیہ اور چین کے درمیان مستقبل کے جوہری پلانٹوں کی تعمیر میں بھی مزید تعاون بڑھے گا۔

اطلاعات کے مطابق ایسا ایک ری ایکٹر ایسکس میں بریڈویل کے مقام پر بنایا جا سکتا ہے۔

توانائی کی وزیر ایمبر رڈ نے اخبار فنانشیئل ٹائمز کو بتایا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ برطانیہ میں جوہری پلانٹ بنانے میں چین سرِ فہرست رہے۔

انھوں نے کہا کہ چین سے امید کی جا رہی تھی کہ وہ ایسکس کی سائٹ پر بیجنگ کے ڈیزائن کیے ہوئے جوہری پلانٹ کی تعمیر میں آگے رہے۔

ای ڈی ایف نے حکومت کی ضمانت کو خوش آمدید کہا ہے لیکن یہ نہیں کہا کہ اس سے پروجیکٹ دوبارہ درست سمت چل پڑے گا۔

اس ماہ کے آغاز میں ای ڈی ایف نے تسلیم کیا تھا کہ سمرسیٹ میں لگائے جانے والے ہنکلے پوائنٹ پاور پلانٹ میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

فروری میں کمپنی نے کہا تھا کہ اس نے پلانٹ میں سرمایہ کاری کے فیصلے کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔

کمپنی اپنے طور پر پلانٹ کی تعمیر کا 24.5 ارب پاؤنڈ کا خرچ برداشت نہیں کر سکتی اس لیے وہ سرمایہ کاری کے لیے شراکت کار ڈھونڈ رہی ہے، خصوصاً چین میں۔ ایسا کرنا اس کے لیے مشکل ثابت ہوا تھا اس لیے حکومت کو درمیان میں آنا پڑا تاکہ وہ لاگت پر ضمانت دے سکے۔

نیا پاور سٹیشن 20 برس میں برطانیہ میں بننے والا پہلا پاور سٹیشن ہو گا اور توقع ہے کہ یہ 60 برس تک بجلی بناتا رہے گا۔

چین کے نائب وزیرِ اعظم ما کائی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں جارج اوزبورن نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ چین مغرب کا سب سے بہتر شراکت کار بنے۔ یہ (ضمانت) چین کی برطانیہ کے جوہری پلانٹ میں سرمایہ کاری کا راستہ ہموار کرتی ہے تاکہ آنے والی کئی دہائیوں تک محفوظ، قابلِ اعتبار، کم کاربن والی بجلی پیدا کی جا سکے۔‘

انھوں نے جوہری توانائی پر تحقیق کے لیے پانچ کروڑ پاؤنڈ کا مشترکہ سینٹر بنانے کا بھی اعلان کیا۔

جارج اوزبورن نے کہا کہ چینی کمپنیوں کو اس پروجیکٹ میں سے کافی حصہ دیا جائے گا۔