جوہری ری ایکٹرز پر پراسرار ڈرون پروازویں

،تصویر کا ذریعہAFP
فرانس میں بجلی پیدا کرنے والی سرکاری کمپنی ای ڈی ایف کے یہ کہنے کے بعد کہ اس کے جوہری پلانٹوں میں سے سات پر بغیر پائلٹ کے جہاز منڈھلاتے دیکھے گئے ہیں حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ای ڈی ایف کا کہنا ہے کہ بغیر پائلٹ کے پہلا جہاز 5 اکتوبر کو دیکھا گیا اور اس کے بعد 20 اکتوبر تک اور بھی ڈرون دیکھے گئے۔
ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان ڈرونز کے پیچھے کون ہے لیکن ماحولیاتی تحفظ کے لیے سرگرم گروہ گرین پیس نے ایسی کسی کارروائی سے انکار کیا ہے۔
وزیرِ داخلہ بیئرنار کاذنوئو نے کہا ہے کہ ڈرونز کو بے اثر کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
فرانس کے قانون کے مطابق جوہری پلانٹ کے پانچ کلو میٹر یا 1,000 میٹر کے اطراف میں کوئی جہاز نہیں اڑ سکتا اور فضائیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی ساری جگہوں کی حفاظت کرے۔
فرانس میں 75 فیصد بجلی جوہری پلانٹوں سے حاصل کی جاتی ہے اور ای ڈی ایف 19 جگہوں پر 58 ری ایکٹرز چلا رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پہلا ڈرون جنوب مشرقی فرانس میں لیون کے 50 کلو میٹر مشرق میں پر واقع کریز۔مالویل پلانٹ کے اوپر دیکھا گیا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر پروازیں 13 اور 20 اکتوبر کے درمیان رات اور صبح کے وقت ہوئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گرین پیس نے کہا ہے کہ ایک ڈرون پیرس میں واقع سی ای اے ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اوپر سے بھی گزرا ہے۔ گرین پیس نے ای ڈی ایف پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان واقعات کی اہمیت کو کم کر کے پیش کر رہی ہے۔ اخبار لی فگارو کی ویب سائٹ کے مطابق سی ای اے کی دوسری سائٹس کے اوپر بھی ڈرونز کی کئی پروازیں ہوئی ہیں۔
فضائیہ کے ترجمان کرنل ژاں پاسکل بریٹن کے مطابق سبھی ڈرون چھوٹے سائز کے تھے اور مارکیٹ سے خریدے جا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈرونز کے چھوٹے سائز کی وجہ سے انھیں کوئی خطرہ نہیں سمجھا گیا۔
وزیرِ داخلہ بیئرنار کاذنوئو نے کہا کہ ایک عدالتی انکوائری شروع کی جا رہی ہے اور اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ پتا چلایا جا سکے کہ وہ ڈرونز کیا تھے اور انھیں بے اثر کیا جائے۔
فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 2025 تک فرانس کے جوہری ری ایکٹروں کی تعداد کم کر دیں گے اور فرانس کا جوہری طاقت پھر انحصار 75 فیصد سے کم کر کے 70 فیصد تک لے آئیں گے۔







