جاپان میں آخری جوہری بجلی گھر بھی بند

اوہی جاپان کا آخری جوہری ری ایکٹر تھا جو بجلی فراہم کر رہا تھا
،تصویر کا کیپشناوہی جاپان کا آخری جوہری ری ایکٹر تھا جو بجلی فراہم کر رہا تھا

جاپان نے اپنے آخری جوہری توانائی فراہم کرنے والے ری ایکٹر کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس بندش کی کوئی مدت بھی نہیں بتائی گئی ہے۔

حکام کے مطابق مغربی جاپان میں اوہی کے مقام پر قائم ری ایکٹر 4 سوموار کی صبح سے بجلی فراہم کرنا بند کر دے گا۔

اس بندش کے بعد جاپان میں رواں برس دسمبر تک جوہری توانائی میسر نہیں ہوگی اور سنہ 1960 کی دہائی کے بعد سے یہ پہلا موقع ہوگا جب جاپان اتنے دن تک بغیر جوہری توانائی کے گزارہ کرےگا۔

واضح رہے کہ سنہ 2011 میں فوکوشیما کے جوہری پلانٹ میں تابکاری کے اخراج کے بعد وہاں کے عوام جوہری توانائی کے خلاف ہو گئے تھے۔

تابکاری کے اخراج کا یہ واقعہ ایک طاقتور زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں پیش آیا تھا اور اس سے قبل جاپان کو 30 فیصد توانائی انہی جوہری پلانٹوں سے حاصل ہوتی تھی۔

اس کے بعد سے جاپان نے جوہری پلانٹوں کو حفاظتی خطرات اور مجوزہ مرمت کے لیے بند کرنا شروع کر دیا اور انہیں اس کے بعد دوبارہ شروع نہیں کیا گیا۔

گزشتہ سال مئی اور جون کے مہینے میں جاپان بغیر جوہری توانائی کے تھا لیکن ٹوکیو الیکٹرک پاؤر کمپنی یعنی ٹیپکو کو اپنے اوہی کے ری ایکٹر کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

اس دوران عوامی خدشات کو کم کرنے کے لیے حکومت پر حفاظتی معیار کو سخت کرنے کا دباؤ رہا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تمام تر حفاظتی انتظامات کی جانچ اور اس میں شامل قانونی رکاوٹیں دور کرنے میں تقریباً چھ ماہ کی مدت درکار ہوگی۔

ابھی تک جاپان کے پچاس ری ایکٹرز میں سے کمپنیوں نے قریب ایک درجن ری ایکٹروں کو دوبارہ شروع کرنے کی درخواست دے رکھی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کے دوبارہ شروع کرنے میں چھ ماہ کی مدت درکار ہوگی
،تصویر کا کیپشنتجزیہ نگاروں کے مطابق اس کے دوبارہ شروع کرنے میں چھ ماہ کی مدت درکار ہوگی

وزیر ا‏عظم شنزو ابے کی خواہش ہے کہ یہ ری ایکٹر پھر سے اپنا کام کرنا شروع کر دیں کیونکہ ان کی معیشت کے فروغ کے منصوبے میں یہ کلیدی کردار کے حامل ہیں۔

فوکوشیما کی تباہی کے بعد جاپان کو کثیر مقدار میں کوئلے، قدرتی گیس اور دوسرے ایندھن برآمد کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔

ابے کی حکومت 2011 سے بڑے پیمانے پر ہونے والی ان درآمدات کو جاپان کے تجارتی خسارے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

فوکوشیما کے بعد سے ہر گھر کے بجلی بل میں اوسطاً 30 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جس سے صارفین کے خرچ کرنے کی صلاحیت کے فروغ دینے کو نقصان پہنچا ہے۔

اس کے علاوہ فوکوشیما کے جاری مسائل نے جاپان حکومت کی پھر سے جوہری توانائی کی جانب واپسی میں عوامی حمایت حاصل کرنے کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

حالیہ نقصانات میں ٹیپکو کے مطابق اس ماہ کے شروع میں پانی جمع کرنے والے ٹینکروں کے آس پاس تابکاری کی سطح میں اضافہ ہو گیا تھا۔

ٹیپکو نے اس سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ ٹینک میں جمع پانی سے انتہائی زہرآلود پانی کا اخراج ہوا ہے۔