ترکی کے شہر جزیرہ میں کرفیو ختم کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہDIHA
ترکی میں حکام کے مطابق جزیرہ شہر میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران لگایا گیا کرفیو سنیچر کو ختم کیا جا رہا ہے۔
جمعرات کو ترکی وزارتِ داخلہ کے جزیرہ شہر میں آپریشن کے دوران 30 افراد ہلاک جن میں سے اکثریت کرد شدت پسندوں کی تھی جبکہ کرد نواز سیاسی جماعت پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی’ ایچ پی ڈی‘ کے مطابق تشدد کے واقعات میں 20 عام شہری ہلاک ہوئے۔
<link type="page"><caption> ترکی میں کرد باغیوں کے حملوں میں اضافہ کیوں؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150909_turkey_why_clashes_escalating_zz" platform="highweb"/></link>
جزیرہ شہر میں گذشتہ جمعے کو اس وقت کرفیو نافذ کیا گیا تھا جب وہاں فوج نے کرد شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔
جزیرہ کی مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سنیچر کو پہلے اوقات میں ہی کرفیو ختم کر دیا جائے گا۔
انتظامیہ نے شہریوں کا شکریہ ادا کیا کہ ’شدت پسند تنظیم‘ کے خلاف کامیاب آپریشن کے دوران انھوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGARO PAYLAN
اس سے پہلے شہر میں کرفیو کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ آپریشن کی وجہ سے وہ اپنے گھر سے نہیں نکل سکے کیونکہ شہر میں سرکاری ہسپتال کا شعبہ ایمرجنسی بند کر دیا گیا تھا اور دواخانے بند تھے۔
ترکی کی حکومت کے مطابق جزیرہ کرد جنگجوؤں کا اہم ٹھکانہ ہے اور ان کے خیال میں شہر میں 80 پیشہ ور جنگجو سرگرم تھے جبکہ دو سو نوجوانوں نے ہتھیار اٹھا لیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب جمعے کو کرد اکثریتی شہر دیارباقر میں ایک کیفے پر حملے میں ایک ویٹر ہلاک اور تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
ادھر ترکی کے جنگی جہازوں نے شمالی عراق میں کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر مزید فضائی حملے کیے ہیں۔
جمعرات کو جزیرہ شہر کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ جب سے فوج نے علاقے میں کرفیو نافذ کیا ہے اس وقت سے شہر محاصرے میں ہے۔
اس شہر کو ’جزیرہ ابن عمر‘ بھی کہا جاتا ہے۔
جمعرات کو پولیس نے ایچ ڈی پی کے رہنماؤں کے ایک وفد کو شہر میں داخل ہونے سے روک دیا۔
یہ گروپ پیدل شہر جانے کی کوشش کر رہا تھا اور اس میں جماعت کے سربراہ صلاحالدین دمیرتاش سمیت 30 ارکان پارلیمان شامل تھے۔
اس وفد کے مطابق وہ دنیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتے تھے کہ کرد اکثریتی شہر کی اس وقت کیا صورتحال ہے۔

،تصویر کا ذریعہhurriyet.com.tr
ترکی میں کردوں کی عسکریت پسند تنظیم’ پی کے کے‘ اور ترکی کی فوج کے درمیان جھڑپوں میں اس وقت دوبارہ شدت آئی جب جولائی میں فائر بندی کا معاہدہ ناکام ہو گیا۔
ترکی کے جنگی جہازوں نے شمالی عراق میں ’پی کے کے‘ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے ہیں جبکہ جنوب مشرقی علاقوں میں سکیورٹی سخت کرتے ہوئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
ترکی میں ’پی کے کے‘ کی سنہ 1984 میں آزاد کرد ریاست کے قیام کے لیے شروع کی جانے واکی تحریک کے دوران اب تک تشدد کے واقعات میں 40 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومت اور پی کے کے میں 2013 میں فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا اور یہ رواں سال جولائی میں اس وقت ختم ہو گیا جب شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے شامی سرحد کے قریب واقعہ شہر سوروچ میں خودکش حملہ کیا اور اس میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت کرد نوجوانوں کی تھی۔







