’قوم پرستوں کے حملے ترکی کو خانہ جنگی کی جانب دھکیل رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ترکی میں کرد نواز سیاسی جماعت ایچ ڈی پی پارٹی نے حکمران جماعت پر الزام عائد کیا ہے کہ قوم پرستوں کے حملوں سے وہ ترکی کو خانہ جنگی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔
کرد نواز سیاسی جماعت کے خلاف حملوں میں ابھی تک کوئی ہلاک نہیں ہوا ہے لیکن ایچ ڈی پی پارٹی کے سربراہ اور حامیوں کو ’مارنے کی مہم‘ کا سامنا ہے۔
جماعت کے سربراہ مسٹرسہیلطین دمیتریس کو ملک کے جنوب مشرقی شہر کریز جانے سے بھی روک دیا گیا۔
رواں سال جولائی میں جنگ بندی کا معاہدے ختم ہونے کے بعد ترکی کی فوج اور کرد جماعت پی کے کے کے درمیان لڑائی میں اضافہ ہوا ہے۔
ترکی میں جون میں ہونے والے انتخابات غیر نتیجہ رہے تھے جس کے بعد انتخابات کا اگلا دور نومبر میں ہو گا۔
ترکی میں انتخابات سے قبل سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے اور مسٹر دمیتریس کا کہنا ہے کہ ترکی میں سو سے زیادہ کرد علاقوں کو عارضی طور پر ملٹری زون میں تبدیل کرنے کے بعد ان علاقوں میں انتخاب کیسے ہو گا؟
انھوں نے کہا کہ گذشتہ دو دنوں میں ایچ ڈی پارٹی کے دفاتر پر 400 حملے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیراعظم احمد اوغلو نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کی جان و مال پر حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب ایچ ڈی پارٹی کے رہنما مسٹر دمیتریس نے وزیراعظم اور صدر طیب اردغان پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے ’جنگ کو شروع کیا اور اُسے بڑھایا ہے۔‘
ایچ ڈی پارٹی نے قوم پرستوں کی جانب سے اس الزام کہ ایچ ڈی پی جماعت کرد جماعت پی کے کے کا سیاسی ونگ ہے کو مسترد کیا ہے۔
رواں سال جون میں ہونے والے انتخابات میں ایچ ڈی پی جماعت پہلی بار پارلیمان کا حصہ بنی ہے اور پارلیمان میں 14 فیصد نشستیں حاصل کرنے کے بعد حکمران جماعت اے کے پی کو پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں ہے۔
گذشتہ روز قوم پرست مظاہرین نے انقرہ میں پارٹی کے صدر دفتر پر حملہ کیا اور آگ لگا دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایچ ڈی پی کا کہنا ہے کہ پولیس نے عمارت پر حملہ کرنے والے مظاہرین کو نہیں روکا۔
ادھر کریز شہر کے رہائیشی نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں لڑائی کے بعد کرفیو نافذ ہے جبکہ گذشتہ روز حکام نے ایچ ڈی پی پارٹی کے رہنماؤں کو شہر کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔
خیال رہے کہ سنہ 1984 میں جب پی کے کے نے آزاد کرد مملکت کا مطالبہ شروع کیا تھا اس وقت سے اب تک 40 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔







