ترکی: انقرہ سمیت مختلف شہروں میں کرد نواز پارٹی ایچ ڈی پی کے دفتر پر حملہ

،تصویر کا ذریعہAFP
ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں مشتعل ہجوم نے کرد نواز ایچ ڈی پی پارٹی کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ کرد جنگجوؤں اور ترکی کی فوج کے درمیان پرتشدد واقعات میں گذشتہ دنوں اضافہ ہوا ہے۔
جائے حادثہ سے موصول ہونے والی تصاویر میں ایچ ڈی پی کی عمارت سے آگ اور دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔
اس سے قبل ترکی فوج نے کرد جنگجوؤں کے ساتھ دو سال قبل ہونے والے معاہدے کے بعد پہلی بار ان کے تعاقب میں عراق کی سرحد کو عبور کیا ہے۔
ترکی کی فضائیہ نے بھی کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
قوم پرستوں نے منگل کو ملک گیر پیمانے پر جلوس نکالے۔ خیال رہے کہ یہ جلوس ملک کے مشرقی علاقے میں پی کے کے کی جانب سے ہونے والے مشتبہ بم حملے میں 14 پولیس اہلکاروں کی موت کے بعد نکالے گئے۔
اس حملے سے ایک روز قبل ہونے والے حملے میں ترکی کی فوج کے 16 جوان مارے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایچ ڈی پی (پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی) کے رکن پارلیمان گارو پیلان نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ سینکڑوں مظاہرین نے انقرہ میں ان کی پارٹی کی عمارت پر حملہ کیا ہے۔
انھوں نے کہا: ’پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور وہاں جو چیز توڑی جا رہی ہے وہ ہمارے اتحاد کی امید ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق دوسرے چھ شہروں میں بھی ایچ ڈی پی کے دفاتر پر حملے کیے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ جنوبی تفریحی مقام النیا کے دفتر کو بھی آگ لگا دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
استنبول میں حکومت نواز مظاہرین نے پھر سے ’حریت اخبار کے دفتر پر حملہ کیا ہے اور عمارت کے شیشے توڑ دیے ہیں۔ اس سے قبل اتوار کو ایک مشتعل ہجوم نے حملہ کیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ صدر رجب طیب اردوغان کے ٹی وی انٹرویو کو اخبار نے غلط طور پر پیش کیا تھا۔‘
خیال رہے کہ وزیر اعظم نے ٹوئٹر پر اس حملے کی مذمت کی تھی۔
انھوں نے کہا: ’میڈیا کے اداروں، سیاسی پارٹیوں کی عمارتوں اور عام شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانا ناقابل قبول ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’میں محبت بھرے دل کے ساتھ اپنے تمام شہریوں سے پرامن رہنے، ایک دوسرے کو گلے لگانے اور حکومت پر بھروسہ رکھنے کی اپیل کرتا ہوں۔‘
ایچ ڈی پی کے رہنماؤں نے مسٹر داؤد کی برسراقتدار جماعت اے کے پارٹی پر یکم نومبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل قوم پرستوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
خیال رہے کہ ایچ ڈی پی پہلی بار پارلیمان میں داخل ہوئی ہے۔ اس نے انتخابات میں 14 فی صد ووٹ حاصل کیے اور اس طرح اے کے پی کو پارلیمان میں واضح اکثریت سے محروم کر دیا۔
اس سے قبل منگل کو ترکی کی دوغان نیوز ایجنسی نے کہا کہ فوج کے دو سپیشل یونٹ جنگی طیاروں کی نگرانی میں شمالی عراق میں داخل ہوئے ہیںے اور جنگجوؤں کے دو گروہوں کو نشانہ بنایا ہے۔
انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق قندیل، بسیان، اواشین اور زیب میں پی کے کے کے ٹھکانوں پر کیے جانے والے حملوں میں کم از کم 35 باغی مارے گئے ہیں۔
صدر اردوغان نے کہا ہے کہ پی کے کے کو ترکی کے اندر اور باہر دونوں جگہ ’سخت نقصان‘ پہنچا ہے اور وہ ’گھبراہٹ‘ کا شکار ہیں۔
خیال رہے کہ سنہ 1984 میں جب پی کے کے نے آزاد کرد مملکت کا مطالبہ شروع کیا تھا اس وقت سے اب تک 40 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔







