ترکی میں کرد باغیوں کے حملوں میں اضافہ کیوں؟

ترکی نے جنوب مشرقی کرد علاقوں میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے باغیوں کے حملوں کے بعد سکیورٹی اقدامات میں اضافہ کرتے ہوئے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
اتوار کو کرد باغیوں کے حملے میں 16 فوجی ہلاک ہو گئے تھے اور اس واقعے پر ملک میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
اس کے بعد ایک مشرق میں ہی باغیوں کے پولیس وین پر ایک حملے میں 14 پولیس اہلکار مارے گئے۔
نسلی کشیدگی میں اضافے نے یکم نومبر کو منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
کردوں کی حامی جماعت پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی یعنی ایچ ڈی پی نے حکمراں جماعت اے کے پی اور ترکی کی انٹیلی جنس پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ ان کے دفتر پر ہونے والے چار سو حملوں میں ملوث ہیں۔
منگل کو ہی انقرہ میں مشتعل ہجوم نے ’ایچ ڈی پی‘ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کر کے اسے آگ لگا دی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی کے شہری ایچ ڈی پی کو کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے)کا سیاسی ونگ تصور کرتے ہیں جبکہ ایچ ڈی پی اس کی سختی سے تردید کرتی ہے۔
کرد باغیوں کےحملوں کے بعد ترکی کے جنگی جہازوں کی شمالی عراق میں ’پی کے کے‘ کے ٹھکانوں پر بمباری کے علاوہ وہاں زمینی کارروائی بھی شروع کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی ملک کے صدر رجب طیب اردوغان پر الزام عائد کر رہی ہے کہ وہ ملک میں قوم پرست کے جذبات کو ہوا دے رہے ہیں تاکہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں ان کی جماعت اے کے پارٹی اکثریت حاصل کر کے اقتدار میں رہے۔
ایچ ڈی پی نے جون میں ہونے والے انتخابات میں 13 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جس کی وجہ سے اے کے پارٹی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی جبکہ اے کے پارٹی نے ان انتخابات کے بعد نیا اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اسے کامیابی نہیں مل سکی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ترکی میں حالیہ کشیدگی صرف اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ اس کی علاقے میں تبدیل ہوتی صورتحال بھی ایک بڑی وجہ ہے۔
بہت سارے کردوں کو یہ غصہ ہے کہ ترکی شام کے شمالی شہر کوبانی میں کرد جنگجوؤں کی مدد کرنے میں ناکام رہا جو وہاں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف لڑ رہے تھے۔
کوبانی میں کئی ماہ کی شدید لڑائی کے بعد جون میں کردوں کے ’وائے پی جی‘ گروپ یا پیش مرگہ نے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو شکست دی تھی۔
اس کے بعد 20 جولائی کو شام کی سرحد سے متصل ترکی کے شہر سوروچ میں واقع ایک ثقافتی سینٹر میں دھماکے کے نتیجے میں32 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ہلاک ہونے والوں میں نوجوان کردوں کی تھی۔
اس واقعے نے کردوں کے غصے میں مزید اضافہ کر دیا اور وہ یہ وجہ سمجھتے ہیں کہ ترکی دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کرنے سے اس سے لیے اجتناب کر رہا ہے کیونکہ اس کے خیال میں اپنی سرحدوں کے قریب ’وائے پی جی‘ اور’ پی کے کے‘ کو مضبوط ہونے اور متحد ہونے سے روکنے میں شدت پسندی ایک فائدہ مند ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔







