رمادی کے قریب خودکش حملہ، دو عراقی فوجی کمانڈر ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters

عراقی فوج کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی کے نزدیک کے خودکش کار بم حملے میں فوج کے دو کمانڈروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوج کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے جنرل عبدالرحمان ابو رغیف سٹریٹیجک لحاظ سے اس اہم صوبے کے نائب آپریشنل کمانڈر تھے جبکہ بریگیڈیئر صفین عبدالمجید بھی انبار کے ڈویژنل کمانڈر تھے۔

یہ خود کش حملہ رمادی کے قریب جریشی کے علاقے میں ہوا۔ خیال رہے کہ بغداد کے مغرب میں 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع رمادی پر اس وقت شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔

عراق کی فوج کے بریگیڈیئر یحییٰ رسول نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ بم اس وقت پھٹا جب فوجیوں نے ایک ایسی مشتبہ گاڑی کو روکا جو ان کے خیال میں انھیں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ گاڑی بارود سے لدی تھی اور ’اس میں ہونے والا دھماکہ فوجیوں کی شہادت کی وجہ بنا۔‘

فوجی افسر کے مطابق اس دھماکے میں دس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق دو فوجی کمانڈروں کی ہلاکت نے بغداد میں عراقی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ایسے واقعات دولتِ اسلامیہ سے برسرِپیکار عراقی افواج کے مورال کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

عراقی افواج نے اس شہر کو واپس لینے کے لیے کوششیں کی ہیں لیکن ابھی تک انھیں اس سلسلے میں مکمل کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں امریکہ کے وزیرِدفاع ایشٹن کارٹر نے کہا تھا کہ رمادی میں عراق افواج کی شکست ظاہر کرتی ہے کہ ان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے عزم کی کمی ہے۔

اس کے جواب میں عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ عراقی فوج دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے رمادی ’چند دنوں‘ میں واپس لے سکتی ہے تاہم اس کے لیے عراق کو بین الاقوامی اتحادیوں کی مزید مدد کی ضرورت ہے۔