یونان کے لیے بیل آؤٹ پیکج کی ’اصولی‘ منظوری

یورپی کمیشن نے کہا ہے یونان کا اپنے معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے قرض خواہوں کے ساتھ ’اصولی‘سمجھوتہ طے پاگیا ہے۔
کمیشن نے کہا ہے کہ یونان کے ساتھ ٹیکنیکل سمجھوتہ طے پا گیا ہے جسے اب سیاسی منظوری کی ضرورت ہے۔
یونان کی وزارتِ خزانہ نے منگل کو ایتھنز میں یورپی یونین اور آئی ایم ایف سے ہونے والے اس سمجھوتے کا اعلان کیا۔ یہ سمجھوتہ طویل اور ایک انتہائی دشوار مذاکراتی عمل کے بعد ممکن ہو سکا ہے۔
سمجھوتے میں طے پانے والے مالی پیکیج کے اصل حجم کے بارے میں توقع کی جا رہی تھی کہ یہ 86 ارب یورو کے لگ بھگ ہوگا لیکن اس کے اصل حجم کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا گیا۔
خیال رہے کہ یونان کی معیشت کے کساد بازاری کا شکار ہونے کے باعث اس کا حجم بڑھ بھی سکتا ہے۔
اس سے قبل یونان کےوزیر خزانہ یوکلیڈ تساکالوتوس نے عندیہ دیا تھا یونان اپنے بین الاقوامی قرض خواہوں کے ساتھ کئی ارب یورو کے بیل آؤٹ معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے اور اب صرف چند معمولی تفصیلات کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
اس سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ اب یونان یوروزون سے باہر نہیں نکلے گا اور دیوالیہ پن سے بچ جائے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تساکالوتوس نے بتایا کہ بیل آؤٹ بات چیت میں صرف ’دو یا تین معمولی نوعیت کی تفصیلات‘ طے ہونی رہ گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل روئٹرز نے ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ یونان اور ان کے قرض دینے والوں کے درمیان ایتھنز میں معاہدہ ہو گيا ہے۔
ایک سرکاری اہلکار کے مطابق یونان نے ایک نئے نجی فنڈ کے انتظام اور بینک کے جن قرضوں کی وصولیاں نہیں ہو رہیں، ان کا بندوبست کرنے کے طریقہ کار پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ دونوں مسئلے معاہدے کے درمیان انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔
اس سلسلے میں اہلکار کا یہ بیان نقل کیا گیا کہ ’بالآخر ہم نے سفید دھواں دیکھ لیا ہے۔‘ خیال رہے کہ سفید دھواں فیصلہ ہو جانے کی علامت ہے۔
اس سے قبل یونان کی پارلیمان نے یورو زون کی جانب سے دیے گئے بیل آؤٹ پیکیج کی سخت شرائط ایک ایسے وقت منظور کی تھیں جب پارلیمان کے باہر شدید مظاہرہ ہو رہا تھا اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہو رہی تھیں۔
یونانی پارلیمان کی جانب سے منظور کی جانے والی شرائط میں ٹیکسوں اور ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ شامل ہے۔







