یونان کے بینک تین ہفتوں بعد آج کھل گئے ہیں

کئی ہفتوں سے یونان میں اے ٹی ایم مشینوں پر قطاریں ایک عام سی بات ہوگئی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکئی ہفتوں سے یونان میں اے ٹی ایم مشینوں پر قطاریں ایک عام سی بات ہوگئی ہے

مالی بحران سے دوچار یونان میں تین ہفتوں کے لیے بند رہنے والے بینک آج پیر کی صبح کھل گئے ہیں۔

یونان اور اس کے قرض خواہوں کے درمیان مذاکرات میں مشکلات کی وجہ سے ملک کے بینک بند کر دیے گئے تھے اور صارفین پر ای ٹی ایم مشینوں سے پیسے نکالنے پر مختلف شرائط لاگو کر دی گئی تھیں۔

گذشتہ ہفتے یونانی حکومت اور اس کے بین الاقوامی قرض خواہوں کے درمیان معاہدہ طے پا گیا تھا جس کی وجہ سے یونان کو یورو زون سے خارج نہیں ہونا پڑا۔

معاہدے کے تحت یونانی حکومت کو مزید قرضے کے لیے ملک میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔

اگرچہ پیر کی صبح بینک کھول دیے گئے ہیں تاہم اب بھی بہت سی پابندیاں قائم رہیں گی۔ اس کے علاوہ ملک میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ادھر جرمنی کا کہنا ہے کہ وہ یونان کو دیے گئے قرضے میں رعایت پر غور کرنے کے لیے تیار ہے تاہم اس میں کمی نہیں کی جا سکتی، صرف واپسی کی شرائط جیسے معاملات پر بات ہو سکتی ہے۔

کئی ہفتوں سے یونان میں اے ٹی ایم مشینوں پر قطاریں ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ بینکوں سے لوگوں کے بڑی مقدار میں پیسے نکلوا لینے کے خدشے کے پیشِ نظر صارفین پر ایک دن میں ساٹھ یورو نکلوانے کی حد موجود تھی۔ مگر روزانہ کی حد ختم کر کے ہفتہ وار 420 یورو کی حد لگائی گئی ہے تاکہ لوگوں کو روز اے ٹی ایم پر جانا نہ پڑے۔

جرمنی کا کہنا ہے کہ وہ یونان کو دیے گئے قرضے میں رعایت پر غور کرنے کے لیے تیار ہے تاہم اس میں کمی نہیں کی جا سکتی، صرف واپسی کی شرائط جیسے معاملات پر بات ہو سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنجرمنی کا کہنا ہے کہ وہ یونان کو دیے گئے قرضے میں رعایت پر غور کرنے کے لیے تیار ہے تاہم اس میں کمی نہیں کی جا سکتی، صرف واپسی کی شرائط جیسے معاملات پر بات ہو سکتی ہے

ادھر رقوم کی ملک سے باہر منتقلی اور چیک کے ذریعے پیسے نکالنے پر مکمل پابندی ابھی بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو 13 فیصد سے بڑھا کر 23 فیصد کیا جا رہا ہے۔ ٹیکس میں اضافہ ان اصلاحات میں شامل تھا جن کا یونان کے قرض خواہوں نے آئندہ بیل آوٹ پیکج پر بات کرنے سے پہلے لاگو کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ادھر یونان کے سابق وزیرخزانہ نے کہا تھا کہ ملک کی اقتصادی اصلاحات ’ناکام ہونے جارہی ہیں۔‘

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں سابق وزیرخزانہ وروفاکس کا کہنا ہے کہ یونان جس پروگرام پر عمل پیرا ہے وہ ’تاریخ کی بدترین میکرو اکنامک مینجمنٹ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔‘

وروفاکس کا کہنا تھا کہ ’جو کوئی بھی اس پر عمل درآمد کا ذمہ دار ہے یہ پروگرام ناکام ہونے جارہا ہے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ جمعرات کو یورپی سنٹرل بینک نے ملک میں حکومت کی جانب سے اصلاحات کے اہم پیکیج کی حمایت کے اعلان کے بعد یونانی بینکوں کو سپورٹ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔