یمن میں زنجبار سے حوثی باغیوں کو ’باہر دھکیل دیا گیا‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یمن سے موصول ہونے والی اطلاعات کےمطابق حکومتی افواج نے سعودی اتحاد کی فضائی بمباری کی مدد سے حوثی باغیوں کے زیرِ تسلط زنجبار شہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ یمن کے جنوبی صوبے ابیان کے دارالحکومت زنجبار میں حالیہ دنوں کے دوران حکومتی افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری تھی۔
اس شہر کا سقوط حوثی باغیوں کے لیے ایک اور بڑا دھچکہ ہے کیونکہ انھیں حالیہ دنوں انھیں کئی محاذوں پر شکست کا سامنا رہا ہے۔
حوثی باغیوں کو عدن کے ہاتھ سے جانے کے بعد اس ہفتے ایک اہم ہوائی اڈے سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔
اطلاعات کے مطابق حکومتی افواج عدن کے مشرق میں 50 کلومیٹر دور واقع شہر زنجبار میں داخل ہو گئی ہیں۔
عدن کے محکمۂ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اِختتام ہفتہ ہونے والی لڑائی میں کم سے کم 19 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
دوسری جانب متحد عرب امارات کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں جاری مہم کے دوران سینچر کو ان کے تین فوجی ہلاک ہو گئے۔
متحد عرب امارات کی سرکاری ایجنسی ڈبلیو اے ایم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فوجی کیسے ہلاک ہوئے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ حوثی باغیوں نے مارچ میں جنوب کی جانب پیش قدمی کی تھی جس سے صدر منصور ہادی کو سعودی عرب بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔
سّنی ملک سعودی عرب کا خیال ہے کہ اس کا شیعہ حریف ایران حوثی باغیوں کی مدد کررہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایران نے حوثیوں کو مسلح کیا ہے لیکن ایران اور حوثی دونوں ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی فورسز کی حمایت والے حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ مسٹر ہادی کی حکومت کی بدعنوانی اور ان کے شمالی گڑھ کو حاشیے پر لانے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس جنگ میں مارچ سے ابھی تک چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے نصف تعداد عام شہریوں کی ہے۔







