الجزیرہ کے صحافیوں کے خلاف مقدمے کے فیصلے میں پھر تاخیر

،تصویر کا ذریعہAP
مصر کے ایک عدالت نے اخوان المسلمین کی معاونت کے الزام میں الجزیرہ چینل سے وابستہ تین صحافیوں کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کے بعد عدالتی فیصلہ ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے۔
اس سے پہلے جمعرات کو عدالت نے دوبارہ سماعت کے بعد فیصلہ سنانا تھا۔
اتوار کو عدالت میں صحافیوں کو بتایا گیا ہے کہ اس مقدمے کے فیصلے کو 29 اگست تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
مصری نژاد کینیڈا کے شہری محمد فہمی، آسٹریلوی صحافی پیٹر گریسٹا اور باہر محمد کو سنہ 2014 میں دس، دس سال تک سزا سنائی گئی تھی۔
جمعرات کو الجزیرہ چینل نے فیصلے کی تاخیر پر ’شدید غصے‘ کا اظہار کیا تھا لیکن اتوار کو فیصلے میں دوبارہ تاخیر کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد ٹی وی چینل کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
تینوں صحافی رواں سال فروری میں ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔
آسٹریلوی صحافی پیٹر گریسٹا رہائی پانے کے بعد ملک چھوڑ چکے ہیں تاہم عدالت نے باقی دونوں کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگائی ہے۔

گذشتہ سال جون میں الجزیرہ چینل کے ان تین صحافیوں کو جھوٹی خبریں پھیلانے اور کالعدم جماعت اخوان المسلمین کی مدد کے الزامات پر سات اور دس سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصر کی اپیل کورٹ نے گذشتہ ماہ ان کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔
محمد فہمی، حراست کے وقت الجزیرہ چینل کے قاہرہ میں بیورو چیف تھے۔
انھوں نے جمعرات کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ جج بین الاقوامی آواز پر ضرور توجہ دیں گے اور فیصلے کی حمایت سے مصر دنیا کی نظروں میں مزید برا ہو گا۔ ’اگر ہمیں دوبارہ جیل میں ڈالا جاتا ہے تو یہ بہت ہی برا ہو گا۔‘
الجزیرہ چینل کے تینوں صحافیوں نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ وہ مصر کے سابق صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد ممنوعہ تنظیم اخوان المسلمین سے کی مدد کر رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف خبریں دے رہے تھے۔







