حلب میں بم دھماکے سے تاریخی قلعے کو نقصان

،تصویر کا ذریعہAFP
شام کے شہر حلب میں ایک بم دھماکے کی وجہ سے شہر کے ایک قدیم قلعے کی دیواریں گر گئی ہیں۔
13 ویں صدی میں بننے والے قلعے سے حلب کے پرانے شہر کو دیکھا جا سکتا ہے اور اسے اقوامِ متحدہ کی طرف سے عالمی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔
شامی فوجیں اس قلعے کو ایک فوجی چوکی کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔
گذشتہ تین برسوں سے حکومت اور باغی فورسز کے درمیان شہر کے کنٹرول کے لیے لڑائی ہو رہی ہے۔
ابھی تک نہیں پتہ چلا کہ کس طرف سے چلائے گئے بم سے قلعے کو نقصان پہنچا ہے۔
زمینی جنگ اور حکومتی فورسز کے فضائی حملوں کی وجہ ہزاروں افراد مر چکے ہیں اور پرانا شہر بھی تقریباً 60 فیصد کے قریب تباہ ہو چکا ہے۔
برطانیہ میں مقیم مانیٹرنگ گروپ دی سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ یہ دھماکہ اتوار کی صبح ہوا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
گروپ کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے کہا ہے کہ دھماکے کی وجہ سے قلعے کی دیوار کا کچھ حصہ گر گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت کا کہنا ہے کہ باغی جنگجوؤں نے قلعے کے نیچے سرنگ کھود کر اس میں بم لگا دیا تھا۔
سرنگوں میں بم لگانا باغیوں کا ایک جنگی حربہ بن چکا ہے۔
جولائی کے آغاز سے باغی گروپوں نے صدر بشار الاسد کے فوجیوں کے خلاف اہم حملہ شروع کیا ہوا ہے۔
مارچ 2011 سے صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت کے بعد ہونے والی خانہ جنگی میں 230,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً 11.5 ملین افراد جو کہ کل آبادی کا نصف سے زیادہ ہے اپنے گھروں کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔







