پائلٹ نے پستول کی گولیاں ٹوائلٹ میں بہا دیں

11 ستمبر کے حملوں کے بعد سے امریکہ میں کپتانوں کو طیارے پر ہتھیار لے جانے کی اجازت ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن11 ستمبر کے حملوں کے بعد سے امریکہ میں کپتانوں کو طیارے پر ہتھیار لے جانے کی اجازت ہے

امریکی حکام اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں کہ جرمنی کی پرواز کے دوران امریکی فضائی کمپنی یونائٹڈ ایئرلائنز کے ایک کپتان نے اپنے پستول کی گولیاں طیارے کے بیت الخلا میں بہا دیں۔

فضائی کپمنی کی ترجمان کا کہنا تھا کہ کپتان نے پہلے پستول کی گولیاں طیارے کے کوڑا دان میں پھینکیں لیکن بعد میں وہاں سے اٹھا کر انھیں ٹوائلٹ میں بہا دیا۔

یاد رہے کہ امریکہ میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد سے مسافر بردار طیاروں کے کپتانوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت طیارے پر ہتھیار لے جانے کی اجازت ہے، تاہم ان قوانین کا اطلاق جرمنی میں نہیں ہوتا جہاں اپنے پاس بندوق یا پستول رکھنے کے بارے میں قوانین سخت ہیں۔

یونائٹڈ ایئرلائنز کی ترجمان کیرن مے کے مطابق 23 جون کی پرواز جب امریکی شہر ہیوسٹن سے جرمن شہر میونخ کے لیے روانہ ہوئی تو مذکورہ پائلٹ اپنا پستول ساتھ نہیں لائے تاہم کچھ گولیاں ان کے ذاتی تھیلے میں رہ گئی تھیں۔

’یہ درست ہے کہ کپتان نے گولیاں تلف کرنے کے لیے غلط طریقہ اپنایا تاہم اس بات کے امکانات نہیں ہیں کہ ان پر کوئی مقدمہ چلایا جائے گا۔‘

تفصیل کے مطابق پرواز کے دوران ایک فضائی میزبان ایک مسافر کی کھوئی ہوئی انگوٹھی تلاش کر رہا تھا کہ اسے کوڑا دان میں پستول کی گولیاں نظر آئیں۔

اس پر کپتان نے گولیاں کوڑا دان سے نکال کر بیت الخلا کے گٹر میں بہا دیں، تاہم اس خدشے کے تحت کہ فضائی میزبان جرمن حکام کو اس واقعے کے بارے میں بتا دے گا، کپتان نے طیارہ اتارنے سے پہلے خود ہی جرمن حکام کو اس واقعے سے مطلع کر دیا۔

ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ کپتان کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی کی جا رہی ہے یا نہیں۔

دوسری جانب فضائی سکیورٹی کے امریکی ادارے ’ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈ منسٹریشن‘ کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں، تاہم ادارے نے اس پر کوئی مزید تبصرہ نہیں کیا۔