جرمن ونگز کی تباہی اور قتل کا مقدمہ

طیارے کے معاون پائلٹ ​ آندریاز لوبٹز کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے حادثے سے ایک ماہ قبل تک سات محتلف ڈاکٹروں سے رجوع کیا

،تصویر کا ذریعہAndreas Lubitz

،تصویر کا کیپشنطیارے کے معاون پائلٹ ​ آندریاز لوبٹز کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے حادثے سے ایک ماہ قبل تک سات محتلف ڈاکٹروں سے رجوع کیا

فرانس میں جرمن ونگز طیارے کی تباہی کے حوالے سے نئی تحقیقات کا آغاز ہو رہا ہے جس میں اس نکتے پر غور کیا جائے گا کہ کیا ہوائی کمپنی یا طیارے کو تباہ کرنے والے معاون پائلٹ کے ڈاکٹروں کی معلومات میں فرق کی بنیاد پر قتل کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔

STY37990342’جرمن پائلٹ نے اپنی بیماری کو چھپایا‘’جرمن پائلٹ نے اپنی بیماری کو چھپایا‘جرمنی میں استغاثہ کا کہناہے کہ فرانس میں جرمن مسافر طیارے کو ممکنہ طور پر جان بوجھ کر تباہ کرنے والے معاون کپتان نے اپنی بیماری کی تفصیلات کو ائیرلائن سے چھپایا تھا۔2015-03-27T10:02:41+05:002015-03-27T10:26:17+05:002015-03-27T21:10:20+05:002015-03-27T21:10:19+05:00PUBLISHEDurtopcat2

خیال رہے کہ رواں سال مارچ میں جرمن ونگز طیارے پر سوار تمام 150 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا تھا جب جرمن ونگز ایئرلائنر کے ایک معاون پائلٹ آندریاز لوبٹز نے اپنے جہاز کو دانستہ طور پر پہاڑوں میں لے جا کر تباہ کر دیا تھا۔

طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے جمعرات کی جانے والی گفتگو میں فرانسیسی پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ابھی ابتدائی تحقیقات کی جا رہی ہیں جن میں تین مجسٹریٹ حصہ لے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تحقیقات کا مقصد یہ جاننا ہے کہ طیارے کو تباہ کرنے والے معاون پائلٹ کے بارے میں جو کچھ ان کے ڈاکٹروں کو معلوم تھا اور جو کمپنی جانتی تھی اس میں موجود فرق کی بنیاد پر قتل کا الزام لگ سکتا ہے؟

فرانسیسی پراسیکیوٹر برائس روبن کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ طیارے کے معاون پائلٹ آندریاز لوبٹز نے جان بوجھ کر طیارے کو بتاہ کیا۔

معاون پائلٹ ایک ماہ کے اندر سات الگ الگ ڈاکٹروں کے پاس گئے۔ جن میں سے ایک جنرل فیزیشن، تین نفسیاتی ماہرین اور تین ماہرِ امراضِ چشم تھے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ معاون پائلٹ نے حادثے سے فقط ایک ہفتے قبل اپنے ڈاکٹروں میں سے ایک کو کہا تھا کہ رات بھر صرف دو گھنٹے سو پاتے ہیں اور انھیں خدشہ ہے کہ وہ اندھے ہو جائیں گے۔

تاہم ان کے معالج نے ان کی بصارت میں کمی کےحوالے سے کوئی شواہد نہ مل سکے۔ ایک اور ڈاکٹر نے انھیں تجویز دی کہ ایسا کسی نفسیاتی مرض کی بِنا پر ہو سکتا ہے۔

طیارے کی تباہی کے بعد کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہMinisterio Interior Francia

،تصویر کا کیپشنطیارے کی تباہی کے بعد کا ایک منظر

جرمن ونگز کی اصل کمپنی لفتھانسا ایئرلائنز نے کہا ہے کہ لوبٹز نے اپنی ٹریننگ کے دوران سنہ 2009 میں یہ بتایا تھا کہ وہ ڈپریشن میں ہیں۔

یہ بھی سامنے آیا کہ یورپین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (یو اے ایس اے) کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایجنسی کی جانب سے کئی بار جرمنی میں ہوا بازی کے ضابطہ کاروں کو ایئر سیفٹی اصولوں کی پابندی نہ کرنے پر وارننگ جاری کی گئی ہے۔

برائس روبن کہتے ہیں کہ چند ڈاکٹر جو کہ آندریاز لوبٹز کا علاج کر رہے تھے یہ جانتے تھے کہ لوبٹز بیمار ہے اور جہاز چلانے کے لیے صحت مند نہیں۔ تاہم ڈاکٹرز نے یہ تمام صورتحال

متعلقہ حکام کو نہیں بتائی تھیں کیونکہ جرمن قانون کے تحت وہاں مریضوں کی معلومات صیغہ راز میں رکھنی ہو تی ہیں۔

خیال رہے کہ اس طیارے میں ہلاک ہونے والے 16 بچوں اور سکول کے دو اساتذہ کے تابوت جرمنی کے ہالٹرن نامی قصبے میں بدھ کو پہنچائے گئے تھے۔

ہلاک شدگان کی تدفین میں تاخیر کی وجہ ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں ہونے والی غلطیاں بتائی جاتی ہے۔

دیگر ہلاک شدگان کے تابوت آئندہ ہفتوںمیں پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اس طیارے میں جرمنی، سپین، آسٹریلیا، جاپان اور ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔