برسلز: ’اجلاس میں یونان نے کوئی ٹھوس تجویز نہیں دی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
مالٹا کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں قرضوں کے بحران کے حوالے سے یونان نے کوئی ’ٹھوس تجویز‘ نہیں دی ہے۔
مالٹا کے وزایر اعظم جوزف مسکیٹ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ یونان کی جانب سے کوئی ٹھوس تجویز نہ دینے سے ’برسلز میں ہونے والے یورپی رہنماؤں کے اجلاس کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘
ذرائع کا کہنا ہے کہ یونان کے وزیرِ اعظم ایلکسس تسیپراس بدھ کو یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے۔
اطلاعات کے مطابق برسلز میں ہونے والے اجلاس میں یونان کے نمائندگان نے وزرائے خزانہ کو ایک پریزنٹیشن دی تاہم کوئی تحریری منصوبہ پیش نہیں کیا گیا۔
سپین کے وزیر خزانہ نے ایک رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا: ’کوئی تجویز نہیں پیش کی گئی۔ ہم نے صرف عام باتیں کیں اور ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔‘
روئٹرز کو ایک ذریعے نے بتایا: ’انھوں نے کہا تھا کہ وہ ایک نئی درخواست پیش کریں گے اور تجویز بھی۔ ہو سکتا ہے بدھ کو کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس سے قبل فرانسیسی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ فرانس ہر ممکن کوشش کرے گا کہ یونان یورو زون سے باہر نہ ہو کیونکہ ایسا کرنے دینا نہایت خطرناک ہو گا۔
برسلز میں ہونے والے مذاکرات سے قبل انھوں نے کہا ’معاہدے ہونے کے امکانات ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم جرمنی نے غیر مشروط طور پر قرضے کو معاف کرنے کے حوالے سے متنبہ کیا۔
یونانی وزیرِ اعظم تسیپراس ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں قرضوں کی معافی کا اختیار موجود ہو۔
یونانی عوام نے اتوار کو منعقدہ ریفرینڈم میں عالمی قرض دہندگان کی جانب سے مزید قرض کے لیے عائد کفایت شعاری کی شرائط کو بھاری اکثریت سے رد کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یونان میں ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے بند بینکوں کو ابتدائی طور پر منگل کو بینک کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اب یونانی بینکنگ ایسوسی ایشن کے سربراہ لوکا کاتسیلی نے کہا ہے کہ پیر کو ہونے والی بات چیت کے بعد اس مدت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ادھر یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) نے یونانی بینکوں کے لیے مختص ہنگامی رقم بڑھانے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں موجودہ 89 ارب یورو کے ہنگامی قرضوں کے لیے بھی مزید ضمانتیں فراہم کرنا ہوں گی۔
ایسا کرنے کی صورت میں یونانی بینکوں کے پاس موجود اضافی نقدی میں کمی آئے گی۔
بی بی سی کے معاشی مدیر رابرٹ پیٹسن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے وہ وقت آ گیا ہے کہ جب یونان کی بینکاری کا نظام ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یورپی مرکزی بینک کے فیصلے سے قبل یونان کے وزیرِ اقتصادیات جیورجیوس ستاتھاکس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ای سی بی کو آئندہ سات سے دس دن تک یونانی بینکوں کو رقوم فراہم کرنی چاہییں تاکہ اس دوران بات چیت جاری رہ سکے۔
خیال رہے کہ یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یونان کی معیشت میں بہتری کے لیے سخت شرائط اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اب ہم یونانی حکام کی جانب سے پہل کے منتظر ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یونانی حکومت کو اپنے عوام کو ممکنہ نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے ’ذمہ داری اور ایمان داری‘ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔







