’یہ ہے پرل ہاربر کا بدلہ‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکہ کی خواتین فٹبال ٹیم کی جانب سے جاپان کو فائنل میں شکست کے دینے بعد ٹوئٹر پر ایک ہنگامہ شروع ہو گیا۔
یہ ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب چند مداحوں نے امریکی خواتین ٹیم کی اس فتح کا تعلق جاپان کی جانب سے سنہ 1941 میں امریکی بحری اڈے پرل ہاربر پر کیے جانے والے حملے سے جوڑ دیا۔
ایک امریکی صارف کلائیڈ ریورز نے ٹویٹ کی: ’یہ ہے پرل ہاربر کا بدلہ۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پرل ہاربر نامی ہیش ٹیگ چند گھنٹوں کے دوران ہی امریکی ٹوئٹر صارفین میں ٹاپ ٹرینڈنگ کرنے لگا اور اس پر ہزاروں ٹویٹس کی گئیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان کے اس ٹویٹ کو 8,500 سے زائد بار ری ٹویٹ کیا گیا اور یہ 11,000 سے زائد بار پسندیدہ ٹویٹ رہا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایک اور صارف شان گارشیا نے ٹویٹ کیا: ’جاپانیوں نے پرل ہاربر کو تباہ کیا تاہم ہم نے ان کے خواب چکناچور کر دیے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دیگر صارفین نے امریکی کی جانب سے جاپانی شہروں ناگا ساکی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرائے جانے کا حوالہ دیا جبکہ ایک اور صارف نے یہاں تک کہہ دیا: ’کوئی ہماری خواتین ٹیم کو یہ بتانا کیوں بھول گیا کہ ہم پہلے ہی پرل ہاربر کا بدلہ لے چکے ہیں۔‘
دوسری جانب متعدد ٹوئٹر صارفین نے چند مداحوں کی جانب سے منفی رویے پر تنقید بھی کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک ٹوئٹر صارف ٹیلر پیری نے ٹویٹ کی: ’پرل ہاربر کوئی مذاق نہیں تھا، ہیرو شیما اور ناگاساکی بھی مذاق نہیں تھا، یہ جنگِ عظیم دوم نہیں ہے بلکہ یہ سنہ 2015 میں خواتین کا فٹبال میچ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایک اور صارف نے ٹویٹ کی: ’کیا ہم سب صرف کھیل کو دیکھ کر اس کا مزا نہیں لے سکتے؟‘
دیگر ٹوئٹر صارفین جاپانی مداحوں کے دفاع کرنے لگے۔
ایک ٹوئٹر صارف گنج نے کہا: ’آپ مذاحیہ نہیں ہیں، آپ ایک خوفناک انسان ہیں۔‘







