’دولتِ اسلامیہ کے جنگجو کوبانی میں دوبارہ داخل ہو گئے‘

کرد جنگجوؤں نے چار ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد رواں برس جنوری میں کوبانی سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو مار بھگایا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکرد جنگجوؤں نے چار ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد رواں برس جنوری میں کوبانی سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو مار بھگایا تھا

شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے سرحدی شہر کوبانی پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے حملے کیے ہیں۔

ان حملوں کا آغاز شام اور ترکی کی سرحد پر واقع شہر کے قریب ایک خودکش کار بم دھماکے سے ہوا۔

شام میں حقوقِ انسانی پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ کوبانی کے مرکزی علاقے میں دولتِ اسلامیہ اور کرد فورسز کے جنگجوؤں کے مابین شدید لڑائی ہو رہی ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو شمال مشرقی شام میں حصاکہ نامی شہر میں بھی داخل ہوئے ہیں اور حکومتی افواج سے شہر کے دو اہم حصوں کا کنٹرول چھین لیا ہے۔

دی سیریئن آبزرویٹري فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ کوبانی میں جاری شدید لڑائی میں متعدد افراد مارے گئے ہیں۔

کرد جنگجوؤں نے امریکی فضائیہ کے حملوں کی مدد سے چار ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد رواں برس جنوری میں کوبانی سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو مار بھگایا تھا۔

کوبانی سے دولتِ اسلامیہ کے انخلا کو ایک علامتی شکست کے طور پر دیکھا گیا تھا اور کوبانی سے نکلنے کے بعد انھیں کرد جنگجوؤں کے ہاتھوں کئی دیگر محاذوں پر بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

شام اور ترکی کی سرحد پر واقع کوبانی جنگ کے نتیجے میں تباہ ہو چکا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشام اور ترکی کی سرحد پر واقع کوبانی جنگ کے نتیجے میں تباہ ہو چکا ہے

رواں ہفتے ہی كردش پاپولر پروٹیکشن یونٹس کی افواج نے دولتِ اسلامیہ کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے رقہ کے نزدیک واقع اہم قصبے عین العیسیٰ اور فوجی اڈے پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس سے پہلے کرد افواج نے تل ابیض پر قبضہ کر کے دولتِ اسلامیہ کی فوج کی رسد کا راستہ بھی بند کر دیا تھا۔

سیریئن آبزرویٹري فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر رمی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے سرحدی راہگزر کے نزدیک ایک خودکش حملہ کیا جس میں پانچ افراد مارے گئے۔

رمی عبدالرحمان کے مطابق اس دھماکے کے بعد بدھ کو کوبانی شہر کے مرکزی علاقوں میں شدید جھڑپیں شروع ہوگئیں اور گلیاں لاشوں سے اٹ گئیں۔

انھوں نے کہا کہ جھڑپوں کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری ہے۔

تنظیم نے شمال مشرقی شام میں کوبانی سے270 کلومیٹر دور واقع قصبے حصاکہ میں بھی جھڑپوں میں بھاری جانی نقصان کی خبر دی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجو کئی ماہ سے حصاکہ پر قبضہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

کوبانی کی جنگ کو امریکہ کی سربراہی والے اتحاد کے لیے ایک اہم ٹیسٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اتحادی طیارے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کر کے اسے پسپا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔