کوبانی: دولت اسلامیہ کے بعد تباہی کا منظر

،تصویر کا ذریعہHIKMET DURGUN
- مصنف, کونٹن سمرول
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کوبانی
مرکزی کوبانی میں آزادی چوک کے پاس دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی کے دوران ہونے والی تباہی کا منظر آپ کو صاف دکھائی دیتا ہے۔
مشرق کی طرف دیکھیں تو مکمل تباہی دکھائی دیتی ہے۔ گھر، عمارتیں، دکانیں اور سڑکیں بالکل ختم ہو چکے ہیں۔
شہر کے ثقافتی سینٹر میں تباہ شدہ لیکچر تھیٹر کے اوپر ایک دیوار پر دولت اسلامیہ کے ایک جنگجو ابو تراب نے عربی میں علاقے والوں کو دھمکی لکھی ہوئی ہے کہ علاقے میں ’خون، خون، سر قلم ہوں گے اور تباہی مچے گی۔‘
دولت اسلامیہ نے یہ سب کیا تو ہے، لیکن پوری طرح نہیں۔ کوبانی ٹوٹا ضرور ہے، لیکن ہارا نہیں۔
کردوں نے بھی دولت اسلامیہ کی دھمکیوں کا جواب دیا ہے۔ ایک کرد جنگجو نے ابو تراب کی تحریر کے نیچے لکھا ہوا ہے کہ ’کوبانی دولت اسلامیہ کا قبرستان ہے۔‘
چند گز کے دوری پر دولت اسلامیہ کے تین جنگجوں کی لاشیں سڑ رہی ہیں۔ ایک اتحادی فضائی حملے کے دھماکے نے ان کے چیتھڑے اڑا دیے۔ گٹر میں ایک کھوپڑی پڑی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
کئی ماہ تک دولت اسلامیہ اور کردوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا ہے۔ یہاں پر اب بھی کئی خطرات موجود ہیں۔ پورے علاقے میں مارٹر گولے پڑے ہوئے ہیں، کچھ تو پھٹے بھی نہیں ہیں۔

دولت اسلامیہ چلی گئی لیکن یہ جگہ ابھی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔ اس لڑائی میں سینکڑوں کرد ہلاک ہوئے ہیں لیکن اس دوران دولت اسلامیہ کے ایک ہزار سے زائد جنگجو بھی مارے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
علاقے کے زیادہ رہائشی کوبانی چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ اور جو نہیں گئے وہ سڑکوں کو بند کر دیتے ہیں تاکہ وہ دولت اسلامیہ کی نظروں سے بچ سکیں۔
لڑائی کے دوران رحیمہ اور ان کے 12 رشتہ دار اور ان کے بچے سردی اور اندھیرے میں رہے لیکن یہاں سے نکلنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
وہ کہتی ہیں: ’ہم نے بہت سی مشکلوں کا سامنا کیا ہے۔ ہم بھوکے اور پیاسے تھے لیکن ہم کرد جنگجوں سے مختلف تو نہیں ہیں۔ وہ یہاں رہے اور ہم بھی نہیں گئے۔ جب ان کے پاس خوراک ہوتی تھی وہ ہمارے ساتھ بانٹتے تھے۔ وہ بہت مشکل وقت تھا، لیکن ہمیں پتہ تھا کہ ہم جیتیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہbbc
اب اس علاقے میں خاموشی اور اس کی بچی کھچی سڑکیں ہیں لیکن کبھی کبھی فائرنگ کی آوازیں بھی آتی ہیں۔
دولت اسلامیہ کو یہاں سے نکالنے کے لیے اس علاقے کو بھاری قیمت چکانی پڑی ہے، اور دولت اسلامیہ یہاں سے زیادہ دور بھی نہیں گئی۔ وہ یہاں سے پانچ میل سے بھی کم فاصلے پر موجود ہے اور اس کے جنگجوں کے ساتھ لڑائی اب بھی جاری ہے۔
میں مشرق کی طرف بڑھا۔ یہاں پر کرد جنگجوں نوجوان اور پرعزم ہیں۔ لیکن ان کو تینوں طرف سے دولت اسلامیہ نے گھیرا ہوا ہے۔
ایک کرد جنگجو کا کہنا ہے: ’اس علاقے کو آزاد کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک بڑی فتح ہے۔ لیکن وہ اس سے بھی زیادہ خوشی کا دن ہوگا جس دن ہم کوبانی کے ارد گرد سارے علاقوں کو دولت اسلامیہ کے ہاتھوں سے آزاد کریں گے۔‘
اتحادی طیاروں کی آوازیں اب بھی سنائی دیتی ہیں۔ ہم اندھیرے میں بیٹھے ہوئی تھے جب اچانک پاس سے چار اونچے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
کوبانی کی لڑائی یہاں کے لوگ کبھی نہیں بھولیں گے۔ یہ سڑکیں بیان کرتی ہیں کہ دولت اسلامیہ کو ہرایا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے عظیم قربانی دینی پڑے گی۔







