یونان کے قرض کے بحران پر سمجھوتے کی امید

یونان اور یورپی اتحاد کےمذاکرات

،تصویر کا ذریعہEPA

یونان کی طرف سے نئی معاشی اصلاحات کی تجویز کے بعد مشترکہ سکے یورو میں نئی امید پیدا ہوئی ہے کہ یونان دیوالیہ ہونے سے بچ جائے گا۔

یورو زون کے معاشی طور پر سب سے طاقتور ملک جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے یونان کی نئی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے انھیں پیش رفت سے تو تعبیر کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔

یونان کو جون کے اختتام سے پہلے تک عالمی مالیاتی فنڈ کو 1.6 ارب ڈالر کے قرض کرنی ہے۔ اگر یونان یہ رقم ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ مشترکہ سکے یورو بلکہ ممکنہ طور پر یورپی اتحاد سے بھی باہر ہو سکتا ہے۔

گو ابھی سمجھوتہ یا اتفاق رائے نہیں ہوا ہے لیکن اس مقصد کے لیے بڑی رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں۔

یونانی وزیراعظم ایلکسس تسیپراس دائیں جانب اور وزیرخزانہ ویروفاکس

،تصویر کا ذریعہAFP

یونان نے امیر افراد اور کاروباری اداروں پر نئے ٹیکس اور بعض مخصوص اشیا پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس بڑھانے کے وعدے کیے ہیں۔ ساتھ ساتھ حکومت نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی حوصلہ شکنی اور پنشن کے لیے تنخواہوں سے کٹوتی بڑھانے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔

یورو زون کے رہنماؤں کے شدید دباؤ کے باوجود بچت کی خاطر یونان کی بائیں بازو کی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن کم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور نئے محصولات لگانے کے وعدے کے بدلے یونانی حکومت اپنے یہ مطالبات منوانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

یونانی تجاویز کا مشترکہ سکے کے دوسرے رکن ملکوں کے رہنماؤں نے برسلز میں سربراہ کانفرنس کے دوران خیرمقدم کیا ہے اور توقع ہے کہ وہ بدھ کے روز اُس حتمی سمجھوتے کی منظوری دے دیں گے جس کے نکات اِس وقت طے کیے جارہے ہیں۔

یونان کے لیے سوا سات ارب یورو کے ہنگامی امدادی قرض کا اجرا بھی اسی سمجھوتے کی منظوری سے مشروط ہے۔

یونانی وزیراعظم ایلکسس تسیپراس ملک میں پچھلی حکومت کے دوران مفلوج کر دینے والی کٹوتیوں اور سماجی بہبود کی سہولیات کے خاتمے کے خلاف اقدامات کے وعدے پر اقتدار میں آئے تھے اور ان کا مطالبہ رہا ہے کہ یونان پر واجب الادا قرضوں کی ادائیگی میں سہولت ملنی چاہیے۔

یونان کا مجموعی قرض اُس کی مجموعی سالانہ قومی پیداوار کے دگنے کے لگ بھگ ہے اور ماہرین کے بقول اگر اُسے ادائیگی میں سہولت نہ ملی تو یونان کے لیے ہر کچھ عرصے بعد نئے قرضوں کے حصول کے چکر سے نکلنا مشکل ہو گا۔