کیا شدت پسندوں کے رہنماؤں کو مارنے کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے؟

شدت پسندوں کے سربراہوں کو ہلاک کرنا ایک طے شدہ پالیسی ہے لیکن بطور حکمت عملی یہ کتنی موثر ہے یہ ہمیشہ سے غیر واضح ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں کے سربراہوں کو ہلاک کرنا ایک طے شدہ پالیسی ہے لیکن بطور حکمت عملی یہ کتنی موثر ہے یہ ہمیشہ سے غیر واضح ہے
    • مصنف, شیراز مہر
    • عہدہ, کنگز کالج، لندن

القاعدہ کے جزیرۃ العرب میں ان کی شاخ کے سربراہ ناصر الوحیشی کی ہلاکت کے بعد سے مغرب کی شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے رہنماؤں کو ہلاک کرنے کی وقتی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

دوسری جانب ایسی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ القاعدہ ہی کہ ایک اور سربراہ مختار بل مختار بھی لیبیا میں ڈرون حملے کے نتیجے میں مارے جا چکے ہیں تاہم ان کی تنظیم نے ایسی خبروں کو مسترد کیا ہے۔

اسی دوران امریکہ نے شامی سرزمین پر خصوصی فوجیوں کی ایک ٹیم تعینات کی جس نے گذشتہ ماہ دولت اسلامیہ کہ ایک سینیئر رکن ابو سیاف کو ہلاک کیا تھا۔

شدت پسندوں کے سربراہوں کو ہلاک کرنا ایک طے شدہ پالیسی ہے لیکن بطور حکمت عملی یہ کتنی موثر ہے یہ ہمیشہ سے غیر واضح ہے۔

اس قسم کی کارروائیوں کی سب سے مشہور مثال پاکستان میں اوسامہ بن لادن کی ہلاکت ہے۔

چند ہی ماہ کے بعد القاعدہ کے معروف خطیب انور الواکی یمن میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیے گئے۔اس کے بعد دونوں افراد کی شہرت میں کمی آئی جس کے سبب یہ تاثر عام ہو گیا کہ دہشتگرد تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے ان کے سربراہان کو ختم کرنا کافی ہوگا۔

امریکی صدر بارک اوباما کی انتظامیہ کو اس بات کا یقین ہو گیا تھا اور اسی مقصد کہ لیے انھوں نے القاعدہ کی قیادت کو ختم کرنے کے لیے ڈرونز کی حکمت عملی اپنائی ہے۔

اسی حکمت عملی کے تحت بہت سے اہم رکن مارے جا چکے ہیں اور تنظیم کی سرگرمیوں پر بھی کافی اثر پڑا ہے۔

مریکی صدر بارک اوباما کی انتظامیہ کو اس بات کا یقین ہو گیا تھا اور اسی مقصد کہ لیے انھوں نے القائدہ کی قیادت کو ختم کرنے کے لیے ڈرونز کی حکمت عملی اپنائی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمریکی صدر بارک اوباما کی انتظامیہ کو اس بات کا یقین ہو گیا تھا اور اسی مقصد کہ لیے انھوں نے القائدہ کی قیادت کو ختم کرنے کے لیے ڈرونز کی حکمت عملی اپنائی ہے

ایک لمحے کے لیے ایسا لگ رہا تھا کہ یہ نام نہاد شدت پسندوں کے خلاف جنگ یا’وار آن ٹیرر‘ جیت لی گئی ہے۔

القاعدہ نے اس کا جواب دیا۔ جب تنظیم نے اوسامہ بن لادن کی ہلاکت کے اعلان کے ساتھ یہ سوال کیا کہ’کیا امریکی اپنے تمام تر فوجیوں، خفیہ معلومات اور ایجنسیوں کے ساتھ اس کو مار سکتے ہیں جس کے لیے شیخ اوسامہ جیے اور لڑتے رہے۔ کبھی نہیں، کبھی نہیں۔ شیخ اوسامہ نے وہ تنظیم نہیں بنائی جو اس کے ساتھ ہی مر جائے یا اس کے ساتھ ختم حو جائے۔‘

اس طرح کا ایک بیان الواکی کی ہلاکت کے بعد بھی سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ’امریکہ نے شیخ انور کو ہلاک کیا ہے لیکن وہ کبھی بھی ان کے نظریات کو نہیں مار سکتے۔‘

دنیا بھر میں اوسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد شدت پسندوں کی موجودہ کارروائیوں میں کمی آنے کے بجائے زبردست اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر شام اور عراق میں جہاں دولت اسلامیہ کے جنگجو بے قابو ہو چکے ہیں۔

جب دولت اسلامیہ نے شام اور عراق میں مزید جارحانہ انداز میں کارروائیاں کرنےکے لیے خود کو القاعدہ کی مرکزی قیادت سے الگ کیا تھا تو ان کا دعوی تھا کہ وہ صحیح معنوں میں اوسامہ بن لادن کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے اوسامہ کے جانشین ایمن الزواہری کی خلاف ورزی کی جنھوں نے دولت اسلامیہ کو عراق میں اس کی سرگرمیاں محدود رکھنے اور شام میں جبہتہ النصرہ کو بطور القاعدہ کی نمائندہ تنظیم کے لڑنے کا حکم دیا تھا۔

القاعدہ اور دولت اسلامیہ میں اس تنازعے کی وجہ سے خونی تصادم کا آغاز ہو گیا ہے۔ شدت پسندوں کے سربراہوں کی ہلاکت اسی کا ثبوت ہے۔

شدت پسندوں کے سربراہوں کو مارنے سے فائدہ تو ہوتا ہے۔ ان کی موت سے ان کی تنظیموں کو نفسیاتی دھچکا لگتا ہے اور ان کی سرگرمیاں بھی اثر انداز ہو تیں ہیں۔

ان کے واضح طور پر نقصانات بھی ہیں۔ شدت پسندوں کے سربراہوں کی غیر موجودگی سے پیدا ہونے والے خلا سے ان کی تحریک ٹوٹ جاتی ہے لیکن وہ پھر زیادہ پر تشدد ہو جاتی ہیں۔