’لیبیا میں امریکی حملہ، شدت پسند رہنما مختار بالمختار ہلاک‘

ماضی میں چاڈ کی فوج بھی مختار بالمختار کی ہلاکت کا دعویٰ کر چکی ہے جو غلط ثابت ہوا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنماضی میں چاڈ کی فوج بھی مختار بالمختار کی ہلاکت کا دعویٰ کر چکی ہے جو غلط ثابت ہوا

لیبیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ڈھائی برس قبل الجزائر میں گیس پلانٹ پر حملے کا حکم دینے والے سینیئر شدت پسند کمانڈر مختار بالمختار امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں مختار کے علاوہ ان کے دیگر ساتھی جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔

<link type="page"><caption> مختار کی ہلاکت کی خبریں ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2013/03/130303_mali_mukthar_killed-rk" platform="highweb"/></link> جو کہ درست ثابت نہیں ہوئی تھیں۔

امریکی محکمۂ دفاع نے بھی کہا ہے کہ اس نے لیبیا میں سنیچر کو القاعدہ کے ’درمیانی درجے‘ کے ایک رہنما کو نشانہ بنایا ہے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا ہدف مختار بالمختار ہی تھے تاہم فی الحال اس کے نتائج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

الجزائر میں پیدا ہونے والے مختار بالمختار پہلے القاعدہ ان اسلامک مغرب کے سینیئر رہنما تھے تاہم بعدازاں انھوں نے تنظیم سے ناتہ توڑ کر اپنا الگ جنگجو گروہ بنا لیا تھا۔

وہ سنہ 2013 میں ان امیناس گیس پلانٹ پر حملے کے بعد عالمی میڈیا کی نظروں میں آئے تھے۔

اس کارروائی میں جہاں 800 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا وہیں 38 مغوی ہلاک بھی ہوگئے تھے۔

امریکہ نے مختار بالمختار پر دہشت گردی کے الزامات عائد کر رکھے ہیں اور انھیں مغربی مفادات کے لیے خطرہ قرار دے رکھا ہے۔

لیبیا کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائی لیبیائی حکومت کے مشورے سے عمل میں آئی۔

خیال رہے کہ سنہ 2011 میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا میں افراتفری کا ماحول ہے اور متحارب ملیشیا دھڑے اقتدار کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔