القاعدہ کے سینیئر رہنما الوحیشی کی ہلاکت کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہAP
القاعدہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جزیرۃ العرب میں ان کی شاخ کے سربراہ ناصر الوحیشی یمن میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
ان کی ہلاکت کا اعلان جزیرۃالعرب کی القاعدہ شاخ (اے کیو اے پی) نے ایک آن لائن ویڈیو کے ذریعے کیا ہے۔
اس ویڈیو پیغام میں تنظیم نے دو دوسرے رہنماؤں کی ہلاکت بھی تصدیق کی۔
<link type="page"><caption> القاعدہ کے انتہائی اہم رہنما</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2014/12/141207_al_qaeda_leader_list_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
خیال رہے کہ الوحیشی کو القاعدہ کی درجہ بندی میں ایمن الظواہری کے بعد دوسرے نمبر پر دیکھا جاتا تھا اور وہ اسامہ بن لادن کے پرائیوٹ سیکریٹری بھی رہ چکے تھے۔
ویڈیو پیغام میں ان کے جانشین کے طور پر ملیٹری چیف قاسم ریمی کانام لیا گيا ہے۔
یمنی نیوز گروپ المصد آن لائن نے عربی میں خبر دی تھی کہ الوحیشی گذشتہ جمعے کو یمن میں ہونے والے ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔
القاعدہ کے ایک سینیئر رکن خالد بطرفی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے ویڈیو میں یہ خبر دی: ’جزیرۃالعرب میں ہم القاعدہ والے اپنی مسلم قوم کے لیے سوگوار ہیں کہ بصیر ناصر بن عبدالکریم الوحیشی، خدا انھیں غریق رحمت کرے، ایک امریکی حملے میں گزر گئے اور ان کے ساتھ ان کے دو مجاہد برادران بھی مارے گئے۔ اللہ انھیں اپنی رحمت میں لے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے اس پر کسی تبصرے سے انکار کیا ہے۔
سائٹ انٹیلیجنس نے کہا ہے کہ اگر اس موت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان میں سنہ 2011 میں القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ کے لیے سب سے بڑا دھچکہ ہو گا۔
امریکی وزارت خارجہ نے ان کے سر پر ایک کروڑ امریکی ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔
وزارت کا کہنا ہے کہ ’وہ حملہ کی منظوری، نئے اراکین کی بھرتی، تربیت کے لیے فنڈ دینے اور حملے کی منصوبہ بندی اور دوسروں کو حملے کا کام دینے کے لیے ذمہ دار تھا۔‘
انھیں اے کیو اے پی کا سربراہ اس وقت بنایا گيا جب سنہ 2009 میں عرب اور یمن کی القاعدہ شاخیں ایک ہو گئیں۔







