یمن جنگ پر جدہ میں او آئی سی کا اجلاس، جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے مذاکرات

یمن جنگ سے پیدا شدہ صورتحال پر غور کرنے کے لیے اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی کا ہنگامی اجلاس جدہ میں شروع ہو رہا ہے۔
جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے ایک انتظامی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک روزہ اجلاس جس میں رکن ممالک کے وزرا شرکت کریں گے منگل کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے شروع ہوگا۔
ادھر اسی مسئلے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی قیادت میں پیر کو جنیوا میں شروع ہونے والے مذاکرات آج دوسرے روز بھی جاری رہیں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نےاجلاس کے آغاز سے قبل فریقین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں کسی امن معاہدے تک پہنچیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کریں۔
اس سے قبل اسلامی تعاون تنظیم کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ یہ اجلاس یمن کی حکومت کی درخواست پر بلوایا جا رہا ہے اور متعدد اسلامی ممالک کی جانب سے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے۔
جنگ بندی کی ایپل مگر بمباری جاری

،تصویر کا ذریعہReuters
خیال رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف جاری جنگ میں اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق 2600 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہلاک شدگان میں نصف تعداد عام شہریوں کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے یمنی باشندوں کی تعداد پانچ لاکھ بتائی جاتی ہے۔
سیکریٹری جنرل نے فریقین سے درخواست کی ہے کہ وہ رمضان کی آمد کے پیشِ نظر کم ازکم دو ہفتوں کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کریں۔
بان کی مون کا کہنا تھا کہ جنگ جاری رہنے سے دنیا کے بے رحم دہشت گردوں کو مضبوطی ملے گی۔
تاہم دوسری جانب یمن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ زمینی صورتحال مختلف ہے حالیہ ہفتوں میں یمن میں سعودی سرحد کے قریب حوثی باغیوں اور سعودی فوج کے درمیان لڑائی میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں جانب سے جانی نقصان بھی ہوا ہے۔
نامہ نگار کہتے ہیں کہ حوثی باغی جو کئی علاقوں پر قابض ہو چکے ہیں ان کے لیے اب ان علاقوں سے دستبردار ہونا آسان نہیں ہوگا۔







