سعودی اتحاد کی صنعا میں بمباری سے 36 ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
یمن کے دارالحکومت صنعا میں حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سعودی اور اس کے اتحادیوں نے صنعا میں سپیشل فورسز کے کیمپ پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 36 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا جس کے باعث کم از کم 100 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ کمانڈو یونٹ حوثی باغیوں کے حمایتی ہیں اور سعودی اتحاد اس یونٹ کی صلاحی کو ختم کرنے کی کوشش میں ہے۔
اتحادیوں کے حملے کے بعد یمن کے سرحدی علاقے حجہ سے بھی جانی نقصان کی اطلاعات آئی ہیں۔
بکیل المیر کے رہائشیوں نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ فضائی حملوں میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں اکثریت شہریوں کی ہے۔
ایک رہائشی نے بتایا ’حوثی باغی اس علاقے سے سعودی عرب کے سرحدی علاقوں کو نشانہ بنا رہے تھے لیکن اتحادیوں کی بمباری نے باغیوں کو نہیں شہریوں کو نشانہ بنایا۔‘
حجہ پر حملے کے چند گھنٹوں بعد اتحادیوں کے جہازوں نے صنعا کے ضلع سبئيون میں کمانڈو یونٹ کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا۔
باغیوں کے کنٹرول میں وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ 36 فوجی اور افسران اس حملے میں ہلاک ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم جو فوجی اس حملے میں بچ گئے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں شہری بھی ہوں۔
روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک کمانڈو نے بتایا ’اس گودام کے مرکزی دروازے پر بہت سے لوگ تھے جو ہتھیار لے رہے تھے۔ ان میں کسان، باورچی اور فوجی تھے۔ یہ بیچارے لوگ مرکزی دروازے پر کھڑے تھے۔‘
بدھ کے روز اتحادیوں کے حملے میں صوبہ حدیدہ میں باغیوں کے زیر کنٹرول بحری اڈے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
دوسری جانب صحت کے عالمی ادارے کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مارگریٹ چین نے بدھ کو کہا کہ یمن پر اتحادیوں کی دو ماہ سے جاری بمباری سے دو ہزار افراد ہلاک اور آٹھ ہزار زخمی ہوئے ہیں جن میں سینکڑوں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یمن میں 75 لاکھ لوگوں کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ ’ملک بھر میں ہسپتالوں میں ایمرجنسی آپریشن رومز اور انتہائی نگہداشت کے یونٹ عملے اور تیل کی قلت کے باعث بند ہو رہے ہیں۔‘







