اقوام متحدہ کا یمن تنازعے پر مذاکرات کرانے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ یمن کے تنازعے کے حل کے لیے 28 مئی سے جنیوا میں جامع مذاکرات کا انتظام کرے گی۔
سیکرٹری جنرل بان کی مون نے امید ظاہر کی ہے کہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات یمن کےمسائل کا سیاسی حل تلاش کرنے کی جانب بڑھنے کا راستہ مہیا کریں گے۔
لیکن یمن کی جلا وطن حکومت کے وزیر خارجہ ریاض یاسین نے اقوام متحدہ کی طرف سے مذاکرات کی میزبانی کرنے کے اعلان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاید ان مذاکرات میں شریک نہ ہو سکیں کیونکہ مذاکرات کے لیے انتہائی کم وقت دیا جا رہا ہے اور انھیں مذاکرات میں شریک ہونے کے لیے تیاری کی ضرورت ہے۔
یمنی وزیر خارجہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’ہمیں ان مذاکرات میں شریک ہونے کی باضابطہ دعوت نہیں ملی ہے، بہت ہی کم وقت ہے، اور اگر ان مذاکرات کو ہونا ہے تو 28 مئی کو نہیں ہونا چاہیے۔‘
ادھر سعودی عرب کی سربراہی میں خلیجی ممالک کے اتحاد نے پانچ روز کی جنگ بندی کے بعد ایک بار پھر یمن میں بمباری کا سلسلہ شروع کیا ہے اور گذشتہ روز دارالحکومت صنعا میں فوجی اڈوں اور اسلحہ کے ذخیروں کو بار بار نشانہ بنایاگیا۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کی یمن پر بمباری کے آغاز سے اب تک 1850 افراد ہلاک اور سات ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی سربراہی میں شروع ہونے والی اس بمباری کے بعد سے اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ یمنی باشندے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
بان کی مون نے یمن کے تنازعے کے تمام فریقوں سے کہا ہے کہ وہ 28 مئی کو ہونے والے مذاکرات میں بغیر کسی پیشگی شرائط کے شریک ہوں۔
بان کی مون نے خبردار کیا کہ یمن کے مسئلے کا پائیدار سیاسی حل نکالنے کے لیے تمام معاملات پر بات چیت کی ضرورت ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ عبد ربہ منصور ہادی کی جلاوطن حکومت کو بحال کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جلا وطن یمنی حکومت نے یمن کے مستقبل پر تین روزہ مذاکرات کا انعقاد کیا تھا جو منگل کے روز سعودی عرب میں اختتام پذیر ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات میں سینکڑوں یمنی سیاستدانوں اور قبائیلی سرداروں نے شرکت کی لیکن حوثی باغیوں نے ان مذاکرات میں شریک ہونے سے انکار کیا۔
ادھر بدھ کے روز ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یمن کے لیےامدادی سامان لے کر جانے والا ایرانی بحری جہاز جبوتی میں اقوام متحدہ سے اپنا معائنہ کرانے کے بعد یمن کی طرف روانہ ہوگا۔ ایران نے سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے عرب ممالک کے اتحاد کو اپنے جہاز کے معائنے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔







