سعودی اتحادیوں کے یمن میں حوثی باغیوں پر دوبارہ فضائی حملے

فوجی اہلکار اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عدن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنفوجی اہلکار اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عدن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے

یمن میں فوجی اہلکاروں اور عین شاہدین نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے زیرِ قیادت اتحاد نے حوثی باغیوں کے خلاف پھر سے فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ تازہ حملے پانچ دنوں پر محیط انسانی بنیادوں پر دی جانے والی مہلت کی مدت کے خاتمے پر کیے گئے ہیں۔ جنگ بندی کی یہ مہلت گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق رات دس بجے ختم ہو گئی۔

فوجی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سعودی اتحاد نے جنوبی ساحلی شہر عدن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل سعودی عرب میں یمن کی سیاسی پارٹیوں نے اس بحران کے حل کے لیے بات چیت شروع کی۔

لیکن سعودی شہر ریاض میں ہونے والی اس بات چیت میں شیعہ باغیوں نے شرکت نہیں کی اور وہ اس سے دور ہی رہے۔

مذاکرات کا آغاز کرتے ہوئے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی اسمٰعیل اولد شیخ احمد نے کہا: ’میں تمام فریقین سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ جنگ بندی کے عہد میں کم از کم مزید پانچ دنوں کی توسیع کریں۔‘

مبصرین کے مطابق جنگ بندی کے دوران رضاکاروں کو متاثرین تک ضروری اشیا پہنچانے کی اجازت رہی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمبصرین کے مطابق جنگ بندی کے دوران رضاکاروں کو متاثرین تک ضروری اشیا پہنچانے کی اجازت رہی

انھوں نے فریقین پر اس بات کے لیے بھی زور دیا کہ وہ ’ایسے عمل سے باز رہیں جو ایئرپورٹ کے امن اور نقل و حمل کے اہم انفراسٹرکچر میں خلل ڈالے۔‘

خیال رہے کہ یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف سعودی قیادت والے ایک فوجی اتحاد اور سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فوج مارچ سے فضائی حملہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

باغیوں نے حالیہ صدر منصور ہادی کو فروری میں دارالحکومت صنعا سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا جنھوں نے بعد میں سعودی عرب میں پناہ حاصل کر لی تھی۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کو مناسب خوراک، پینے کے صاف پانی، ایندھن، اور بنیادی طبی سہولیات میسر نہیں ہیں جبکہ تین لاکھ افراد اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چھوٹی موٹی جھڑپوں کے باوجود جنگ بندی کی بہت حدتک پابندی کی گئی اور امدادی کارکنوں کو انسانی ضرورت کی اشیا فراہم کرنے کی اجازت حاصل رہی۔