صنعا میں فوجی ہیڈکوارٹر پر بمباری، 44 ہلاک

سعودی عرب نے 26 مارچ کو یمن میں حوثی باغیوں پر بمباری کا آغاز کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب نے 26 مارچ کو یمن میں حوثی باغیوں پر بمباری کا آغاز کیا تھا

یمن کے دارالحکومت صنعا میں سعودی عرب کی سربراہی میں کارروائی کرنے والے اتحادی طیاروں کی بمباری سے کم از کم 44 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

صنعا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق طیاروں نے فوج کے صدر دفتر کو نشانہ بنایا۔

حوثی باغیوں کے ذرائع نے کہا ہے کہ 44 افراد کی ہلاکت کے علاوہ اس حملے میں ایک سو سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل یہ اطلاعات ملی تھیں کہ مرنے والوں میں زیادہ تر فوجی تھے جو اپنی تنخواہیں لینے کے لیے جمع تھے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب نے 26 مارچ کو یمن میں حوثی باغیوں پر بمباری کا آغاز کیا تھا اور اب تک اس جنگ میں 2000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس لڑائی میں حالیہ چند دنوں میں تیزی آئی ہے اور سنیچر کو بھی حوثی باغی دن بھر سعودی عرب پر حملے کرتے رہے۔

سعودی عرب نے سنیچر کو ہی حوثی باغیوں کے سکڈ میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

سعودی بمباری کا تازہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ حوثی باغیوں اور یمنی حکومت کے درمیان امن مذاکرات 14 جون کو منعقد ہوں گے۔

یمن کی جنگ میں 2000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنیمن کی جنگ میں 2000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

خیال رہے کہ اس سے قبل 28 مئی کو اقوامِ متحدہ نے فریقین کو مذاکرات پر لانے کی کوشش کی تھی تاہم اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے یمن میں موجود تمام فریقین سے کہا ہے کہ وہ بغیر کسی شرط کے نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں۔

مشرقِ وسطیٰ میں بی بی سی کے مدیرِ اعلیٰ سیباسٹین اوشر کے مطابق حکومت اور حوثی باغی دنوں جانب سے 14 جون کے امن مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کی گئی ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بات چیت سے قبل دونوں فریقین اپنے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتی ہیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سیکریٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے تمام فریقین کو نیک نیتی کے ملنے کے لیے کہنا عملی طور پر ایسا کرنے سے آسان ہے جبکہ صورتحال یہ ہے کہ حوثی باغی اپنے اتحادیوں کے ہمراہ سعودی سرحد پر بڑے حملے کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فوج اور حوثی باغیوں پر مارچ سے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

باغیوں نے حالیہ صدر منصور ہادی کو فروری میں دارالحکومت صنعا سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا جنھوں نے بعد میں سعودی عرب میں پناہ حاصل کر لی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق یمن میں جاری جنگ میں مارچ سے اب تک خواتین اور بچوں سمیت 2,000 افراد ہلاک اور 8,000 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں جبکہ پانچ لاکھ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔