یمن میں حوثی باغیوں کی قید سے امریکی شہری بازیاب

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے یرغمال بنائے جانے والے چار امریکی شہریوں میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا ہے۔
فری لانس صحافی کاسے کومبس کو اومان منتقل کردیا گیا جہاں انھوں نے امریکی سفیر سے ملاقات کی۔
گذشتہ ہفتے واشنگٹن پوسٹ نے خبر شائع کی تھی کہ کم از کم چار امریکی شہری حوثی باغیوں کے قبضے میں ہیں۔
دوسری جانب ایک فرانسیسی خاتون کی ویڈیو بھی منظرعام پر آئی ہے جسے فروری میں اغوا کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں وہ اپنی رہائی کے لیے التجا کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
ازابیل پرائم نامی خاتون عالمی بینک کے ایک پراجیکٹ میں کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہی تھیں، انھیں دارالحکومت صنعا میں ان کے مترجم سمیت اغوا کر لیا گیا تھا تاہم بعد میں ان کے مترجم کو رہا کر دیا گیا تھا۔
ویڈیو پیغام میں انھوں نے فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند اور یمنی صدر عبدالربوہ منصور ہادی سے مدد سے رہائی کے لیے مدد کی درخواست کی ہے۔ ’مجھے فرانس لے جائیں کیونکہ میں بہت، بہت تھک چکی ہوں۔‘
ایک فرانسیسی اہلکار نے اس ویڈیو کے اصل ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم اس خاتون کے اغوا کاروں کے بارے میں تاحال علم نہیں ہوسکا۔
فری لانس صحافی کاسے کومبس نیوز ویب سائٹ انٹرسیپٹ کے لیے لکھتے تھے اور انھیں کئی ہفتے قبل یمن سے اغوا کر لیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپریل میں انھوں نے لکھا تھا کہ انھیں ملک چھوڑنے میں دشواری درپیش ہے، ’جیسا سینکڑوں اور شاید ہزاروں دیگر امریکی شہریوں کو۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان میری ہارف کا کہنا ہے کہ کاسے کومبس اپنی رہائی کے بعد باحفاظت اومان پہنچ گئے ہیں اور ان کی حالت ’مستحکم‘ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ صنعا میں قید دیگر امریکی شہریوں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اومان یمن میں خانہ جنگی کے اختتام کے لیے حوثی باغیوں اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
حوثی باغیوں اور فوج میں سابق حکمران علی عبداللہ صالح کے حامی فوجیوں نے گذشتہ سال ستمبر میں صنعا پر قبضہ کر لیا تھا اور اب دیگر کئی شہر بھی ان کے زیرانتظام ہیں۔
گذشتہ سال دسمبر میں امریکی صحافی لوک سومرز اور جنوبی افریقہ کے ایک استاد پیئر کورکی یمن میں القاعدہ کے ایک ٹھکانے پر امریکی کمانڈوز کی کارروائی کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔
اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں لڑائی اور فضائی بمباری سے اب تک 1,037 شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 130 خواتین اور 234 بچے شامل ہیں جبکہ پانچ لاکھ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔







