’حوثیوں اور امریکہ کے درمیان مسقط میں مذاکرات ہو رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
اطلاعات کے مطابق یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ یمن کے تنازعے کے حل کے لیے اعلیٰ حوثی قیادت اور امریکی اہلکاروں کے مابین مسقط میں مذاکرات ہورہے ہیں۔
واضح رہے کہ یمن میں ملک کے دارالحکومت اور دیگر علاقوں پر حوثیوں کے قبضے کے بعد صدر منصور ہادی ملک سے فرار ہوگئے تھے جس کے بعد ان کی حکومت بحال کرنے کے لیے مارچ میں سعودی اتحاد نے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق یمن میں جاری جنگ میں مارچ کے مہینے سے اب تک خواتین اور بچوں سمیت دو ہزار افراد ہلاک اور آٹھ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یمنی حکومت کے ترجمان راجح بادی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی خواہش پر یہ ملاقاتیں ہو رہی ہیں اور حوثیوں کو ایک جہاز کے ذریعے مسقط پہنچایا گیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یمنی حکومت ان مذاکرات میں حصہ نہیں ہے۔
واضع رہے کہ امریکہ اور حوثیوں کی جانب سے بھی اس حوالے سے کو بیان نہیں سامنے آیا ہے۔
اگر ان مذاکرات کی تصدیق ہوگئی تو یہ یمن کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے پہلا موقع ہو گا جب امریکہ اور حوثیوں میں براہ راست رابطہ ہوا ہو۔
یمنی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ مذاکرات یمن کے تنازے کو حل کرنے کی بین الاقوامی کوششوں خصوصاً اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2216 کے تناظر میں ہو رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ ایک اخباری اطلاع کے مطابق یمن میں باغیوں نے چار امریکی شہریوں یرغمال بنایا ہوا ہے اور امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ ان لوگوں کو بازیاب کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان افراد کو بازیاب کرانے کی کوششیں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ ان امریکی شہریوں کو یمن کے دارالحکومت صنعا میں قید کر کے رکھا گیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ہم امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے کی اطلات سے با خبر ہیں اور ان رہائی کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں لیکن فل حال اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی جاسکتی ہیں‘
اخبار کے مطابق یمن میں قید تین امریکی شہری وہاں پر ملازمت کر رہے تھے جبکہ چوتھا شخص یمنی اور امریکی دوہری شہریت رکھتا ہے۔







