سعودی عرب کا حوثی باغیوں کا سکڈ میزائل مار گرانے کا دعویٰ

یمن کے دارالحکومت صنعا میں جمعے کی رات سعودی اتحادی فوجوں نے فضائی بمباری کی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیمن کے دارالحکومت صنعا میں جمعے کی رات سعودی اتحادی فوجوں نے فضائی بمباری کی

سعودی عرب نے یمن کے سرحد ی علاقے میں موجود حوثی باغیوں کی جانب سے فائر کیے گئے سکڈ میزائل کو مار گرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ سنیچر کی صبح جنوب مغربی علاقے خامیس مشیت میں پیٹریاٹ میزائل کی بیٹری کی مدد سے سکڈ میزائل کو روکا گیا۔

اس سے قبل یمن میں برسرپیکار سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے بتایا تھا کہ دونوں ممالک کی سرحد پر چار سعودی فوجیوں کے علاوہ کئی یمنی باغی بھی مارے گئے۔

سعودی عرب نے ایک بیان میں کہا کہ یمن کے ساتھ متصل سرحدی علاقوں میں حوثی باغیوں نے جمعے کو حملہ کیا جس کے بعد کئی گھنٹوں تک جھڑپیں جاری رہیں اور ’اس میں چار سعودی فوجیوں کے علاوہ درجنوں حوثی باغی ہلاک ہوئے۔‘

بیا میں مزید کہا گیا ’باغی ہماری سرحد میں داخل ہونا چاہتے تھے لیکن انھیں پسپا کر دیا گیا۔‘

دوسری جانب حوثی باغیوں نے جنیوا میں ہونے والے امن معاہدے میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

گذشتہ 10 ہفتوں سے سعودی عرب کی قیادت میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملہ جاری ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنگذشتہ 10 ہفتوں سے سعودی عرب کی قیادت میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملہ جاری ہے

خیال رہے کہ یہ امن مذاکرات اقوام متحدہ کی ثالثی میں 14 جون کو ہو رہے ہیں اور ان کا مقصد یمن میں کئی ہفتوں سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے جس میں اب تک 2,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

باغیوں کے سیاسی شعبے کے ایک سینیئر رکن داعی فی اللہ الشامی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم نے اقوام متحدہ کی دعوت کو قبول کیا ہے اور ہم بغیر کسی شرط کے جنیوا مذاکرات کے لیے جائيں گے۔‘

یمنی حکومت جو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے اپنے کام کر رہی ہے نے کہا ہے کہ وہ بھی اس مذاکرات میں شامل ہوگی۔

حالیہ جنگ میں تقریبا دو ہزار افراد ہلاک، آٹھ ہزار زخمی جبکہ پانچ لاکھ بے گھر ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحالیہ جنگ میں تقریبا دو ہزار افراد ہلاک، آٹھ ہزار زخمی جبکہ پانچ لاکھ بے گھر ہوئے ہیں

سعودی نیوز ایجنسی کے مطابق جمعے کے روز جازان اور نجران کے علاقوں میں حوثی باغیوں اور سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی حامی فوجوں نے حملہ کیا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب کی جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہہ سعودی افواج نے یمن کی جانب سے جازان اور نجران کے سرحدی علاقوں پر ہونے والے حملوں کا دفاع کیا ہے۔ اس حملے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد معزول صدر علی عبداللہ صالح کے رپبلکن گارڈ اور حوثی جنگجوؤں کی مدد سے کی گئی۔

دوسری جانب یمن کے دارالحکومت صنعا میں جمعے کی رات سعودی اتحادی فوجوں نے فضائی بمباری کی۔

اقوام متحدہ نے یمن میں قیام امن کے لیے جنیوا میں ایک مذاکرات کا انعقاد کیا ہے
،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ نے یمن میں قیام امن کے لیے جنیوا میں ایک مذاکرات کا انعقاد کیا ہے

خیال رہے کہ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فوج مارچ سے فضائی حملہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

باغیوں نے حالیہ صدر منصور ہادی کو فروری میں دارالحکومت صنعا سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا جنھوں نے بعد میں سعودی عرب میں پناہ حاصل کر لی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق یمن میں جاری جنگ میں مارچ سے اب تک خواتین اور بچوں سمیت 2,000 افراد ہلاک اور 8,000 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں جبکہ پانچ لاکھ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔