انڈونیشیا میں آتش فشاں ماؤنٹ سنابنگ پھر جاگ اٹھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انڈونیشیا میں آتش فشاں متحرک ہونے کے بعد اس کے قریب رہنے والے ہزاروں افراد کو فوراً گھروں کو چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔
سوماترا جزیرے پر موجود ماؤنٹ سنابنگ نامی آتش فشاں سنہ 2010 میں دوبارہ حرکت میں آگیا تھا لیکن دو جون سے اس کی حرکت میں شدت دیکھی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سنہ 2010 سے قبل یہ آتش فشاں 400 سال سے زیادہ عرصے سے متحرک نہیں تھا۔
اس آتش فشاں کے قریب رہنے والے تقریباً تین ہزار لوگوں کو وہاں سے جانے کا کہا گیا ہے جن میں سے پیر کو جانے والے افراد کی تعداد 1200 ہے۔
سائنسدانوں کو تشویش ہے کہ آئندہ ہفتوں میں یہ آتش فشاں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پیر کے روز اس آتش فشاں سے گرم راکھ کے کم از کم 28 مختلف بہاؤ دیکھے گئے جو تیزی کے ساتھ پہاڑ سے نیچے کی طرف آئے۔
انڈونیشیا کے سائنسدان گیدی سوانتیکا کا کہنا ہے کہ ’ماؤنٹ سنابنگ پر ابلتے ہوئے لاوے کی علامات دیکھی گئیں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
آتش فشاں پہاڑ کے اوپر بننے والے سوراخ کے قریب لاوا دکھائی دے رہا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ انتہائی تیزی کے ساتھ نیچے کی طرف آئے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک فوجی کمانڈر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ دو جون کو آتش فشاں کی حرکت میں شدت دیکھنے کے بعد اسی وقت ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ آئندہ دنوں میں ہزاروں مزید افراد کو علاقہ خالی کرنا پڑ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
گذشتہ سال ماؤنٹ سنابنگ کے پھٹنے کے نتیجے میں گرنے والے پتھروں سے تقریباً 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







