آئس لینڈ میں آتش فشاں پھٹنے پر ریڈ الرٹ جاری

کچھ ماہرین کے مطابق پگھلتی ہوئی برف سے مستقبل میں بڑے آتش فشاں پھٹنے کا خدشہ ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکچھ ماہرین کے مطابق پگھلتی ہوئی برف سے مستقبل میں بڑے آتش فشاں پھٹنے کا خدشہ ہے

آئس لینڈ کےمحکمۂ موسمیات نے بوؤردربونگا آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد فضائی کمپنیوں کے لیے خطرے کے درجے کو بڑھا دیا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ واتنایوکل گلیشیئر کے شمال میں ایک کلومیٹر طویل شگاف پیدا ہو گیا ہے جس کے اندر سے لاوا ابل رہا ہے۔

آئس لینڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ آئس لینڈک ایئر کنٹرول نے لاوا ابلنے کی جگہ کے اوپر تک 5000 فٹ کی بلندی تک کی فضائی حدود کو پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔

اس آتش فشاں کے ارد گرد کئی زلزلے آ چکے ہیں جبکہ سب سے بڑے گلیشیئر وتنایوقل کے نیچے آنے والے زلزلے کے بعد ایک آتش فشاں کے پھٹنے کے خطرے کے پیشِ نظر ملک کے فضائی حدود کے نگران ادارے نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کسی قسم کی راکھ نظر نہیں آئی ہے مگر ایک طیارہ اس صورتحال کا جائزہ لینے کے پرواز کرنے والا ہے جو اس علاقے کا سروے کرے گا۔

اس آتش فشاں کے ارد گرد کئی زلزلے آ چکے ہیں مگر اب تک راکھ نہیں ابلی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناس آتش فشاں کے ارد گرد کئی زلزلے آ چکے ہیں مگر اب تک راکھ نہیں ابلی ہے

حکام کے مطابق آتش فشاں کے پھٹنے کے نتیجے میں صورتحال اب تک اتنی بری نہیں ہے کہ وہ فضائی سفر پر اثر انداز ہو۔

’اب تک فضا میں کوئی راکھ نہیں ہے اور اس کے قریب صرف لاوا ابل رہا ہے، اب تک علاقے پر کوئی پابندیاں نہیں ہیں، تمام ہوائی اڈے کھلے ہیں اور صورتحال قابو میں ہے۔‘

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ واتنایوکل گلیشیئر کے شمال میں ایک کلومیٹر طویل شگاف پیدا ہو گیا ہے جس کے اندر سے لاوا ابل رہا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسائنس دانوں کا کہنا ہے کہ واتنایوکل گلیشیئر کے شمال میں ایک کلومیٹر طویل شگاف پیدا ہو گیا ہے جس کے اندر سے لاوا ابل رہا ہے

بی بی سی کے ٹرانسپورٹ کے نامہ نگار رچرڈ ویٹ کوٹ کا کہنا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر بھی آتش فشانی راکھ کے بادل اڑتے تب بھی اس طرح کا پروازوں میں تعطل نہیں پیدا ہو گا جیسا 2010 میں یورپ میں پیدا ہوا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ طیاروں اور انجن سازوں کی جانب سے جس قسم کے آلات پر تجربات کیے جا چکے ہیں اُن کی مدد سے طیارے راکھ کے بادلوں کی شناخت کر کے ان سے بچ کر پرواز کر سکیں گے۔

بوؤدربنگا آتش فشاں کے اوپر ایک بہت بڑا گلیشیئر ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبوؤدربنگا آتش فشاں کے اوپر ایک بہت بڑا گلیشیئر ہے

یاد رہے کہ بوؤدربنگا اور وتنایوقل ایک بڑے آتش فشانی نظام کا حصہ ہیں اور یہ 500 کلومیٹر چوڑے گلیشیئر کے نیچے پائے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2010 میں آئس لینڈ کے ’آئیافیلایوقل‘ آتش فشاں پہاڑ سے نکلی ہوئی راکھ سے یورپ میں ہوائی سفر شدید متاثر ہوا تھا۔

بوؤدربنگا کے آتش فشاں کا 1973 میں اس وقت پتہ چلا جب اس کی مصنوعی سیارے سے تصویر لی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبوؤدربنگا کے آتش فشاں کا 1973 میں اس وقت پتہ چلا جب اس کی مصنوعی سیارے سے تصویر لی گئی تھی

دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ تاریخ کا سب سے بڑا ایسا واقعہ تھا جس سے فضائی سفر بڑے پیمانے پر متاثر ہوا اور اس کے نتیجے میں ڈیڑھ اور ڈھائی ارب یوروز کےدرمیان نقصان ہوا تھا۔

بدھ کے روز آتش فشاں پہاڑ کے علاقے سے 300 لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبدھ کے روز آتش فشاں پہاڑ کے علاقے سے 300 لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا

برطانوی ایئرلائن ورجن ایٹلانٹک نے گذشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنی لندن سے سان فرانسسکو جانے والی ایک پرواز کا راستہ احتیاطی طور پر بدل دیا ہے۔ ایئر لائن کا کہنا ہے کہ ان کی دیگر پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔‘

یاد رہے کہ سنہ 2010 میں آئس لینڈ کے ’آئیافیلایوقل‘ آتش فشاں پہاڑ سے نکلی ہوئی راکھ سے یورپ میں ہوائی سفر شدید متاثر ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیاد رہے کہ سنہ 2010 میں آئس لینڈ کے ’آئیافیلایوقل‘ آتش فشاں پہاڑ سے نکلی ہوئی راکھ سے یورپ میں ہوائی سفر شدید متاثر ہوا تھا

برطانیہ کی ایک اور فضائی کمپنی برٹش ایئرویز نے کہا تھا کہ وہ صورت حال پر ’نظر رکھ رہے ہیں‘ لیکن ابھی تک ان کی پروازیں معمول کے مطابق چلتی رہیں گی۔