آئس لینڈ میں آتش فشاں پھٹنے پر ریڈ الرٹ جاری

،تصویر کا ذریعہReuters
آئس لینڈ کےمحکمۂ موسمیات نے بوؤردربونگا آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد فضائی کمپنیوں کے لیے خطرے کے درجے کو بڑھا دیا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ واتنایوکل گلیشیئر کے شمال میں ایک کلومیٹر طویل شگاف پیدا ہو گیا ہے جس کے اندر سے لاوا ابل رہا ہے۔
آئس لینڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ آئس لینڈک ایئر کنٹرول نے لاوا ابلنے کی جگہ کے اوپر تک 5000 فٹ کی بلندی تک کی فضائی حدود کو پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔
اس آتش فشاں کے ارد گرد کئی زلزلے آ چکے ہیں جبکہ سب سے بڑے گلیشیئر وتنایوقل کے نیچے آنے والے زلزلے کے بعد ایک آتش فشاں کے پھٹنے کے خطرے کے پیشِ نظر ملک کے فضائی حدود کے نگران ادارے نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کسی قسم کی راکھ نظر نہیں آئی ہے مگر ایک طیارہ اس صورتحال کا جائزہ لینے کے پرواز کرنے والا ہے جو اس علاقے کا سروے کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
حکام کے مطابق آتش فشاں کے پھٹنے کے نتیجے میں صورتحال اب تک اتنی بری نہیں ہے کہ وہ فضائی سفر پر اثر انداز ہو۔
’اب تک فضا میں کوئی راکھ نہیں ہے اور اس کے قریب صرف لاوا ابل رہا ہے، اب تک علاقے پر کوئی پابندیاں نہیں ہیں، تمام ہوائی اڈے کھلے ہیں اور صورتحال قابو میں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بی بی سی کے ٹرانسپورٹ کے نامہ نگار رچرڈ ویٹ کوٹ کا کہنا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر بھی آتش فشانی راکھ کے بادل اڑتے تب بھی اس طرح کا پروازوں میں تعطل نہیں پیدا ہو گا جیسا 2010 میں یورپ میں پیدا ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ طیاروں اور انجن سازوں کی جانب سے جس قسم کے آلات پر تجربات کیے جا چکے ہیں اُن کی مدد سے طیارے راکھ کے بادلوں کی شناخت کر کے ان سے بچ کر پرواز کر سکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یاد رہے کہ بوؤدربنگا اور وتنایوقل ایک بڑے آتش فشانی نظام کا حصہ ہیں اور یہ 500 کلومیٹر چوڑے گلیشیئر کے نیچے پائے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ سنہ 2010 میں آئس لینڈ کے ’آئیافیلایوقل‘ آتش فشاں پہاڑ سے نکلی ہوئی راکھ سے یورپ میں ہوائی سفر شدید متاثر ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ تاریخ کا سب سے بڑا ایسا واقعہ تھا جس سے فضائی سفر بڑے پیمانے پر متاثر ہوا اور اس کے نتیجے میں ڈیڑھ اور ڈھائی ارب یوروز کےدرمیان نقصان ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
برطانوی ایئرلائن ورجن ایٹلانٹک نے گذشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنی لندن سے سان فرانسسکو جانے والی ایک پرواز کا راستہ احتیاطی طور پر بدل دیا ہے۔ ایئر لائن کا کہنا ہے کہ ان کی دیگر پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
برطانیہ کی ایک اور فضائی کمپنی برٹش ایئرویز نے کہا تھا کہ وہ صورت حال پر ’نظر رکھ رہے ہیں‘ لیکن ابھی تک ان کی پروازیں معمول کے مطابق چلتی رہیں گی۔







