آتش فشان کے بعد چلی کا سرمئی شہر

،تصویر کا ذریعہepa
چلی میں آتش فشاں پہاڑ کیلبوکو کے دو مرتبہ پھٹنے کے بعد اس کے گرد و نواح کے علاقے میں راکھ گرنے کے بعد وہاں کے رہائشی اپنے گھروں اور مویشیوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
راکھ کے وزن سے کئی گھروں کی چھتیں اور کاروبار تباہ ہوئے ہیں۔ علاقے میں ملبے کو صاف کرنے کے لیے فوج کی مدد حال کی گئی ہے۔حکام نے خبر دار کیا ہے کہ آتش فشاں کے مزید پھٹنے کے امکان ہیں۔
انھوں نے مزید کہا ہے کہ اگر بارش ہوئی تو راکھ کا ملبے میں مل جانے سے بننے والا کیچڑ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
گذشتہ ہفتے جنوبی چلی میں آتش فشاں پہاڑ کیلبو کے دو مرتبہ پھٹنے سے چھ ہزار سے زائد افراد علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہafp

،تصویر کا ذریعہreuters
سنیچر کے روز چلی میں حکام کا کہنا تھا کہ آتش فشاں سے تقریباً 210 ملین کیوبک میٹر راکھ نکل کر علاقے میں پھیل گئی ہے۔
مقامی رہائشی وکٹر ہیوگو ٹولڈو نے کہا کہ علاقہ ایک ’سرمئی صحرا‘ کی تصویر پیش کر رہا ہے۔
انھوں نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ جہاں دیکھیں آپ کو سرمئی دھول نظر آئے گی۔ چھتوں پر اوسطاً 50 سینٹی میٹر تک راکھ گری ہے۔‘
حکام نے ایسیناڈا کے علاقے سے نکلنے والے رہائشیوں کو تھوڑی دیر کے لیے واپس اپنے گھر آنے دیا تاکہ وہ اپنی کچھ ضروری چیزیں بچا سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک مقامی شہری رونی الورادو کے ریستوران کی چھت راکھ کے وزن سے گری ہوئی ملی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’11 برسوں کی محنت ایک دن، ایک سیکنڈ میں ختم ہوگئی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا ذریعہafp
چلی کی حکومت نے علان کیا تھا کہ وہ بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنے والے کاشت کاروں کو مالی مدد فراہم کرے گی اور ہزاروں مویشیوں کو بی علاقے سے نکالنے میں مدد کرے گی۔
جمعرات کو آتش فشاں کے دوسری مرتبہ پھٹنے سے فضا میں 20 کلو میٹر اونچا راکھ کا بادل بن گیا تھا۔
کیلبوکو چلی میں موجود 90 بھڑکتے ہوئے آتش فشاؤں میں سے ایک ہے۔







