چلی: آتش فشاں پھٹنے سے سینکڑوں افراد محفوظ مقامات منتقل

،تصویر کا ذریعہAFP
لاطینی امریکہ کے ملک چلی کے جنوبی علاقے کیلبوکو میں آتش فشان پھٹنے کے بعد فضا میں کئی کلو میٹر تک دھوئیں کےگہرے بادل پھیل گئے ہیں۔ گذشتہ چار دہائیوں میں یہ آتش فشاں پہلی مرتبہ پھٹا ہے۔
آتش فشاں کے قریبی علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور حکام کے مطابق تقریبا ڈھائی ہزار افراد کو محفوظ مقامات منتقل کیا گیا ہے۔
چلی کے کیلبوکو کے پہاڑوں کا شمار سب سے زیادہ آتش فشاں پھٹنے والے علاقوں میں ہوتا تھا لیکن سنہ 1972 سے یہاں آتش فشاں پھٹنے کا کوئی بھی واقع سامنے نہیں آیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ آتش فشاں پھٹنے کے بعد لاوا یا گرم چٹانیں نہیں نکلی ہیں اور صرف دھوئیں کے گہرے بادل اُٹھ رہے ہیں۔
ایمرجنسی سروسز کے مقامی ڈائریکٹر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ آتش فشاں اچانک پھٹا۔
چلی میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے ادارے نے 200 کلومیٹر تک کا علاقہ خالی کروانے کا حکم دیا ہے۔ دھوئیں کے گہرے بادلوں کی وجہ سے پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک مقامی شہری نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ سڑکوں پر بہت رش ہے اور لوگوں اپنے گاڑیوں پیٹرول بھروا رہے ہیں۔
انڈونئیشیا کے بعد چلی وہ ملک ہے، جہاں سب سے زیادہ آتش فشاں پھٹتے ہیں۔ چلی میں 500 آتش فشاں ہیں جو پھٹ سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ کچھ مہینوں کے دوران چلی کے جنوبی علاقوں میں یہ دوسرا آتش فشاں ہے جس سے دھوئیں کے بادل ظاہر ہوئے ہیں۔







