ماؤنٹ اونتاکے پھٹنے سے 30 ہلاکتوں کا خدشہ

آتش فشاں پھٹنے کے وقت تقریباً 250 افراد پہاڑ پر موجود تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآتش فشاں پھٹنے کے وقت تقریباً 250 افراد پہاڑ پر موجود تھے

جاپان میں امدادی کارکنوں کو آتش فشاں ماؤنٹ اونتاکے پر ایسے 30 مہم جو ملے ہیں جو ممکنہ طور پر ہلاک ہو چکے ہیں۔

دارالحکومت ٹوکیو سے دو سو کلومیٹر دور واقع یہ آتش فشاں سنیچر کو پھٹا تھا اور راکھ اور لاوا نکلنے کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق امدادی کارکنوں کو ملنے والے یہ افراد بےجان ہیں اور ان کے دل کی حرکت رک چکی ہے۔ تاہم جاپان میں ہلاکت کا مصدقہ اعلان صرف طبی معائنے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

ماؤنٹ اونتاکے 3067 میٹر بلند ہے اور آتش فشاں پھٹنے کے وقت تقریباً 250 افراد اس پہاڑ پر موجود تھے جن میں سے بیشتر اتر کر محفوظ مقامات پر پہنچنے میں کامیاب رہے۔

اس پہاڑ کے قریب ایک ہوٹل چلانے والی خاتون نے جاپانی براڈکاسٹر این ایچ کے کو بتایا کہ ’اس کی آواز گرج دار تھی اور پھر میں نے دھماکوں کی آوازیں سنیں اور سب کچھ تاریک ہو گیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’زمین پر راکھ کی چھ انچ موٹی تہہ جمی ہوئی ہے۔‘

آتش فشاں کی وجہ سے اردگرد کے علاقے پر راکھ کی کئی انچ موٹی تہہ جم گئی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآتش فشاں کی وجہ سے اردگرد کے علاقے پر راکھ کی کئی انچ موٹی تہہ جم گئی

ایک کوہ پیما نے بتایا کہ وہ بمشکل اپنی جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

اتوار کو امدادی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ فوجی ہیلی کاپٹروں نے مزید سات افراد کو پہاڑ سے نکالا ہے۔

وزیراعظم شنزو آبے نے سنیچر کو فوج کو پہاڑ پر پھنسے ہوئے افراد کی مدد کرنے کا حکم دیا تھا۔

جاپان میں آتش فشاں پھٹنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور حکام باقاعدگی سے ملک میں آتش فشانوں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ ایسے دھماکوں کے قبل از وقت اطلاع دیے جانے کی وجہ سے ان میں عموماً جانی نقصان نہیں ہوتا۔

ماؤنٹ اونتاکے اس سے قبل سنہ 2007 میں پھٹا تھا اور یہ تاحال واضح نہیں کہ اس مرتبہ اس سے لاوے اور راکھ کے ممکنہ اخراج کے بارے میں خبردار کیوں نہیں کیا گیا۔