میکسیکو: وسط مدتی انتخابات سے پہلے تشدد کے واقعات

میسیکو میں انتخابات کے لیے سکیورٹی کے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمیسیکو میں انتخابات کے لیے سکیورٹی کے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں

میکسیکو میں سنیچر کو تشدد کے مزید واقعات ہوئے ہیں جبکہ شہری اتوار کو وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالیں گے۔

ایک بنیاد پرست اساتذہ کی یونین نے ملک کے جنوبی صوبے چیاپس میں پانچ سیاسی جماعتوں کے دفاتر پر حملہ کیا۔

دوسری جانب گؤئریرو صوبے میں کنزرویٹیو پارٹی کے دفتر میں دھماکہ خیز مواد پھینکا گیا۔

تشدد کے دیگر واقعات میں کئی انتخابی امیدوار اور انتخابی مہم میں شامل متعدد رضاکار مارے گئے۔

میکسیکو کو اہل ووٹرز اتوار کو کانگریس، گورنرز اور ميئرز کا انتخاب کریں گے۔

دو صوبوں میں بڑے پیمانے پر پوسٹرز اور بیلٹ پیپرز کو نذر آتش کیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندو صوبوں میں بڑے پیمانے پر پوسٹرز اور بیلٹ پیپرز کو نذر آتش کیا گیا

مبصرین کا کہنا ہے کہ میکسیکو کی تاریخ میں یہ انتخاب بدترین سیاسی تشدد کا حامل رہا ہے۔

انتخاب کرانے والے افسروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج گوئریرو اور اوازکا میں ہے جہاں مظاہرین نے ہزاروں بیلٹ پیپرز کو نذر آتش کر دیا۔

اوازاکا میں مظاہرین برسراقتدار پی آر آئی پارٹی کے دفتر سے فرنیچر اور کاغذات باہر لے جا کر نذر آتش کر دیا۔

جبکہ گوئریرو میں پی آر آئی کے ہیڈکوار کے سامنے مظاہرین نے سیاسی پرچوں کو نذر آتش کیا۔

ان تمام پرتشدد واقعات کے باوجود انتخاب منعقد کرانے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اتوار کو انتخاب ہوں گے۔

ایگوالا میں گذشتہ سال 43 طلبہ اور استازہ کی گمشدگی پر حکومت کے رویے کے خلاف رواں سال پورے ملک میں احتجاج دیکھا گیا

،تصویر کا ذریعہKaty Watson

،تصویر کا کیپشنایگوالا میں گذشتہ سال 43 طلبہ اور استازہ کی گمشدگی پر حکومت کے رویے کے خلاف رواں سال پورے ملک میں احتجاج دیکھا گیا

نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ صدر انریک پینا نیئٹو کے لیے پہلا سخت امتحان ہے کیونکہ انھوں نے سنہ 2012 کے انتخابات میں میکسیکو میں منشیات کی تجارت کے گروپ کے تشدد سے امن دلانے کی بات کہی تھی۔

رائے عامہ کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پی آر آئی اور ان کی اتحادی جماعتیں سکیورٹی خدشات کے اپنے ریکارڈ کے باوجود کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

خیال رہے کہ ایگوالا میں گذشتہ سال 43 طلبہ اور استازہ کی گمشدگی پر حکومت کے رویے کے خلاف رواں سال پورے ملک میں ریلیاں نکالی گئیں تھیں۔