’ قرضے دینے والے عالمی ادارے ذلت آمیز شرائط عائد نہ کریں‘

،تصویر کا ذریعہAP
یونان کے وزیرِ اعظم نے خبردار کیا ہے کہ معاشی مشکلات سے بچنے کے لیے ایتھنز کو ہنگامی طور پر رقم کی ضرورت ہے لیکن قرضے دینے والے عالمی ادارے ذلت آمیز شرائط عائد نہ کریں۔
وزیرِاعظم ایلیکس تسیپرس نے کہا اس وقت یورپی اتحاد اور آئی ایم ایف سے جاری مذاکرت ’نازک ترین‘ مرحلے میں ہیں لیکن قرض دینے والوں کی تجاویز حقیقت پسندانہ نہیں ہیں۔
یونانی وزیرِ اعظم نے یہ بات پارلیمینٹ میں کہی جہاں ان کی بائیں بازو کی جماعت میں قرض دینے والے عالمی اداروں کی تجاویز کی شدید مخالف پائی جاتی ہے۔
اس سے قبل یونان نے آئی ایم ایف کو جمعے کو30 کروڑ یورو کے قرض کی رقم کی ادائیگی میں تاخیر کی ہے۔
وزیراعظم تسیپرس کا کہنا تھا کہ یورپی اتحاد اور آئی ایم ایف کا منصوبہ ’یورپ کے لیے برا لمحہ‘ اور ’مذاکرات کے لیے بُری چال‘ ہے۔
انھوں نے الزام لگایا کہ قرض دینے والے اپنے حالیہ مہینوں کے ان اقدامات سے منحرف ہو رہے ہیں جن پر انھوں نے اتفاق کیا تھا اور یہ کہ وہ اپنی تازہ پیشکش میں سادگی کے خاتمے کی ضرورت کو سمجھنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
جمعے کو ان کی پیشکش کی مذمت کرتے ہوئے یونانی وزیرِ اعظم نے کہا ’کسی ملک کا گلا گھونٹنا اخلاقیات کا مسئلہ ہے اور یہ یورپ کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ کسی بھی معاہدے کا مقصد مسئلے کا حل ہونا چاہیے نہ کہ پوری قوم کی تذلیل۔‘
وزیرِ اعظم نے کہا کہ انھوں نے جو تجاویز دی تھیں وہی واحد حقیقت پسندانہ حل ہے۔ حکمراں جماعت کے کئی ارکانِ پارلیمان یونان کی طرف سے کسی بھی رعایت دینے کے خلاف ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یونان کے ذمے آئی ایم ایف کی واجب الادا چاروں اقساط اب ایک قسط میں اس ماہ کے آخر میں دی جانی ہیں۔
حکمران جماعت کے ارکان میں غصے کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل سکیورٹی کے نائب وزیر ڈیمٹری سٹریٹولس نے عالمی اداروں کے اقدامات کی مذمت کی۔انھوں نے اینٹینا ٹی وی کو بتایا ’اگر وہ بلیک میل کے اس پیکج سے پیچھے نہیں ہٹتے تو حکومت کو مسئلے کے دیگر حل جن میں نیا الیکشن بھی ہے، سوچنے ہوں گے۔‘
تاہم خبررساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ کا جمعرات کو کہنا تھا کہ یونان کو وسطی مدت کے انتخابات کی کوئی ضرورت نہیں۔
ایتھنز میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈ کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں وزیرِ اعظم نے کہا انھیں یورپی تجاویز سے مایوسی ہوئی ہے۔ ان تجاویز کا لبِ لباب یہ ہے کہ یونان مزید کٹوتیاں اور اصلاحات کرے جس کے بدلے میں اسے پیسے مل جائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
لیکن وزیر ِاعظم نے پارلیمان کو بتایا کہ ان کی تجویز کو قبول کیا جائے جو تنخواہوں اور عوامی فوائد کو محفوظ کرتی ہے۔
تاہم یورپی ممالک صورتِ حال کو ایسے نہیں دیکھتے۔ مذاکرات کے لیے اب زیادہ وقت نہیں ہے اور اگر اس ماہ کے آخر تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو یونان کے لیے مزید کو بیل آؤٹ پیکج نہیں ہوگا۔
جمعرات کو وزیرِ اعظم تسیپرس نے جرمنی کی چانسلر اور فرانس کے صدر سے سے فون پر بات کی۔ انھیں جلدی فیصلہ کرنا ہے کہ قرض دینے والے اداروں کے ساتھ معاہدے پر راضی ہونا ہے یا نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یونان ڈیفالٹ کر جائے گااور یورو زون سے باہر بھی نکل سکتا ہے۔
حکومت کو اب 30 جون تک آئی ایم ایف کو ایک ارب 50 کروڑ واپس دینے ہیں او اسی تاریخ کو یورپی اتحاد اور آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ کا پرانا معاہدہ بھی ختم ہو رہا ہے۔
تاہم یونان کو اس ماہ بِلوں کی ادائیگی کے لیے کل تین ارب 70 کروڑ یورو چاہییں۔ باقی پانچ اعشاریہ دو ارب یورو چھوٹی مدت کے ٹریژری بِلوں کے لیے درکار ہیں۔







