جنوبی امریکہ میں طوفان اور سیلاب میں 19 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے جنوب مغربی علاقوں اور شمالی میکسیکو میں خراب موسم اور طوفان کی وجہ سے کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
زیادہ تر لوگوں کی موت میکسیکو کی سرحدی علاقے والے شہر اکیونا میں ہوئی ہے۔ میکسیکو کے شہر سیوڈیڈ اکیونا میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
کواہولیا ریاست میں ٹیکسس کی سرحد کے پاس والے شہر میں سینکڑوں گھر تباہ ہو گئے ہیں۔
کواہولیا کے گورنر روبن موریرا نے ایک معائنے کے دوران بتایا کہ 10 بالغ تین بچے ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک چھوٹا بچہ لاپتہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انھوں نے بتایا کہ تقریبا ڈیڑھ سو افراد کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
دو افراد کی ہلاکت اوکلاہوما میں جبکہ تین ٹیکسس کے سین مارکو میں ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ اموات سمندری طوفان اور بارش کے سبب ہوئی ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بعض علاقوں میں 10 انچ تک بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اس علاقے میں مزید بارش کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طوفان اور خراب موسم کی زد میں آ کر ٹیکسس میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ مزید 12 افراد لاپتہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق یہ افراد بلینکو دریا کے کنارے ہولی ڈے ہوم کے سیلاب میں بہہ جانے کے سبب لاپتہ ہیں ان میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
جوناتھن میک کومب ومبرلی میں اپنی اہلیہ اور بیٹے اور بیٹی کے ہمراہ پانی کے ریلے میں بہہ گئے۔ جوناتھن کو شدید زخموں کے ساتھ بچایا گیا ہے لیکن باقی افراد کا پتہ نہیں ہے۔
ان کے والد جو میک کومب جو سابق کونٹی کمشنر ہیں انھوں نے مقامی ٹی وی پر کہا: ’یہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ ہم بہتری کی امید رکھتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اتوار کو دریا کے بندھ ٹوٹنے سے علاقے میں سینکڑوں گھر بہہ گئے ہیں۔
میکسیکو سے موصول ہونے والی تصاویر میں تباہی کے مناظر نظر آتے ہیں اور کاروں اور عمارتوں کو ہونے والے نقصانات کو دیکھا جا سکتا ہے۔
متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کولوریڈو سے ارکنساس، لوئزیانا، میسوری اور کینسس میں وارننگ اور انتباہ جاری کیے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اکیونا کے میئر ایورسٹو لینن پیریز نے بتایا: ’جو لوگ گھر سے باہر تھے ان کی موت ہوئی ہے۔ جو لوگ گھر میں تھے وہ محفوظ ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے، ’سو سال پہلے جب سے یہ شہر بسا ہے اس کے بعد سے اکیونا میں آنے والا یہ پہلا طوفان ہے۔‘
سین مارکوس کے ایک رہائشی روڈی اولیوو نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا: ’ہم نے آج تک جو دیھکا ہے ان میں سے یہ بدترین ہے کیونکہ پانی بہت تیزی سے بڑھا۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
شہر کی مواصلات کی ڈائرکٹر کرسٹی واٹ نے کہا: ’لوگ کاروں اور اپنے گھروں کی چھتوں پر امداد کے منتظر ہیں اور جو لوگ گھر میں ہیں وہ اونچے مقامات تک جانے کی کوشش میں ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ سینکڑوں لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا ہے جبکہ پانچ پولیس کار سیلاب میں بہہ گئی ہے۔
وسیع پیمانے پر امدادی کام جاری ہے۔







