برفانی طوفان اندازوں سے کم، ’ہم بال بال بچ گئے‘: میئر

نیویارک برف کی چادر سے ڈھکا ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننیویارک برف کی چادر سے ڈھکا ہوا ہے

نیو یارک شہر کے میئر نے ان دعوؤں کے جواب میں کہا ہے کہ حکام نے برفانی طوفان کے خطرے پر ضرورت سے زیادہ ردِ عمل ظاہر کیا ہے، کہ ہم بال بال بچ گئے ہیں۔

نیو یارک کے لوگ جب صبح سو کر اٹھے تو شہر برف کی چادر سے ڈھکا ہوا تھا لیکن برف پیش گوئیوں سے کہیں کم تھی جس کے بعد خطرے کی وراننگ کی کم کر دیا گیا اور ٹرانسپورٹ پر لگی پابندی بھی ہٹا لی گئی۔

ٹی وی چینل سی این این پر بات کرتے ہوئے نیویارک کے میئر بِل ڈی بلاسیو نے کہا کہ ’بعد میں پچھتانے سے احتیاط برتنا بہتر ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں جو کچھ کیا وہ سب کی حفاظت کے لیے ضروری تھا۔

نیویارک اور نیو جرسی میں شدید طوفانی کی وارننگ اب واپس لے لی گئی ہے۔

تاہم نیو یارک سٹیٹ، نیو ہیمپشائر، میسا چیوسٹ کنیٹی کٹ اور روڈ آئی لینڈ میں ابھی بھی 24 انچ تک برف گرنے کا امکان ہے۔

اس سے تقریباً 60 لاکھ افراد کے متاثر ہوسکتے ہیں۔

بوسٹن برفانی طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبوسٹن برفانی طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے

امریکہ کے شمال مشرقی علاقوں میں شدید برفانی طوفان کی وجہ سے نیویارک اور بوسٹن میں زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ ماہرین موسمیات نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ یہ طوفان معمولات زندگی کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔

ماہرین موسمیات نے پہلے 36 انچ تک برفباری کی پیش گوئی تھی جسےگھٹا کر اب 25 انچ کر دیا گیا ہے۔

ان ریاستوں کے کچھ علاقوں میں ایک گھنٹے میں چار انچ برف پڑی۔ نیو یارک، نیو جرسی، کنیٹی کٹ، روڈ آئی لینڈ اور میساچوسٹس میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔

پیر کو رات 11 بجے سے ہنگامی گاڑیوں کے علاوہ ہر قسم کی گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی گئی تھی، اور زیرِ زمین ریل سروس معطل کر دی گئی تھی۔ بوسٹن میں بھی اسی قسم کی صورتِ حال ہے۔

امریکہ کے مشرقی ساحل کو آنے اور جانے والی 6500 پروازیں متاثر ہوئی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکہ کے مشرقی ساحل کو آنے اور جانے والی 6500 پروازیں متاثر ہوئی ہیں

برفانی طوفان سے امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں میں واقع ہوائی اڈوں پر چھ ہزار پانچ سو پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔سوموار سے تمام کاروبار اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔اس طوفان سے چھ کروڑ کے لگ بھگ لوگ متاثر ہوں گے۔

نیویارک کے میئر نے پریس کانفرنس میں لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ برف صاف کرنے والے 2300 ٹرکوں سے محتاط رہیں: ’ہم اس طوفان کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اگلے چند گھنٹوں میں ہم دیکھیں گے کہ برفانی طوفان بہت تیزی سے اور بہت شدت سے ہم سے ٹکرائے گا۔‘

نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں ہی سے کام کریں۔ قومی محکمہ موسمیات کے گلین فیلڈ کا کہنا ہے کہ یہ برفانی طوفان پچھلے اندازوں سے بھی زیادہ شدت کا ہو گا۔

ایک اندازے کے مطابق میساچیوسٹس کے ساحلی علاقوں میں 75 میل فی گھنٹہ سے ہوائیں چلیں گی اور برفباری ہو گی۔

نیو ہیمپشائر کے علاقے کونکرڈ کی رہائشی کرسٹی کرے ہیڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ اپنا مکان چھوڑ کر اپنے دوستوں کے ہاں رہنے جا رہی ہیں کیونکہ ان کے پاس جنریٹر ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

کرسٹی نے بتایا ’میں نے کبھی بھی یہاں تک کہ کرسمس کے دنوں میں بھی دکانوں میں اتنا رش نہیں دیکھا۔ میں نے گیلن والی پانی کی بوتلیں خریدیں۔ اب دکانوں میں چھوٹی بوتلیں ہی رہ گئی ہیں۔ دکانیں تقریباً خالی ہو چکی ہیں۔‘

امریکی موسمیاتی چینل کا کہنا ہے کہ طوفان اس علاقے میں پیر سے بدھ تک جاری رہے گا اور ’ممکنہ تاریخی سرد طوفان شمال مشرقی امریکہ میں پروازوں کی منسوخی اور تاخیر اور ہوائی اڈوں کی بندش کی وجہ بن سکتا ہے۔‘