امریکہ کو چینی جاسوسوں سے کتنا خطرہ ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ میں چینی جاسوسوں کا ایک کیس منظرعام پر آیا ہے۔ کچھ کے خیال میں یہ ایک انتہائی تاریک اور خوفناک مسئلہ ہے جب کہ کچھ کے خیال میں اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔
سنیچر کو تیاجن یونیورسٹی کے 36 سالہ پروفیسر ہاؤ ژینگ لاس اینجلس پہنچے تھے۔ انھیں ایئر پورٹ پر اقتصادی جاسوسی اور تجارتی راز چرانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
ایک سابق سینیئر انٹیلی جنس اہلکار کا کہنا تھا: ’شاباش، ایف بی آئی۔‘ انھوں نے اسے ایک ’متاثر کن کیس‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکی حکام کی چین کی جاسوسی کو روکنے کی کوششیں ظاہر ہوتی ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’یہ صرف ایک مقدمہ ہے، یہ اقتصادی جاسوسی کی پوری تصویر کا صرف ایک حصہ ہے۔‘
کچھ افراد بددلی سے چینی جاسوسوں کی تعریف بھی کر ہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے شعبے کے ایک سابق اہلکارگورڈن ایڈمز کا کہنا ہے: ’وہ بہت جامع ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ ممالک ہمیشہ سے ایک دوسرے کی جاسوسی کرتے رہتے ہیں۔ ایسا تسلسل کے ساتھ ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
کئی سال پہلے چین کی حکومت کے لیے کام کرنے والے ایجنٹس نے بظاہر امریکی میزائل ٹرائیڈنٹ کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں، جیسا کہ ڈیوڈ وائز نے اپنی کتاب ٹائیگر ٹریپ میں لکھا ہے۔
چینی سائنس دانوں نے شاید یہ معلومات چھوٹے پیمانے پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کی ہوں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وائن موریسن نے مارچ میں امریکہ چین تجارتی تعلقات کے بارے میں امریکی کانگریس کے ممبران کے لیے تیارکردہ ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ جب سائبر جاسوسی کی بات کے جائے تو چین کی حکومت اس کی ’بڑی مرتکب‘ ہے۔
سنہ 2011 میں امریکی پارلیمان میں انٹیلی جنس کی کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے جاسوسی کو ’چینی حکومت کی بڑی مہم‘ کے طور پر بیان کیا تھا۔
سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے جیمز اینڈیو لیوس نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا تھا کہ امریکہ میں انٹلیکچول پراپرٹی کی چوری میں سب سے زیادہ ہاتھ چین کا ہے۔ یہ چوری امریکہ کو تقریباً ’100 ارب ڈالر سالانہ‘ کا نقصان پہنچاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFBI
ہاؤ ژینگ اور وی پینگ نے یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا سے الیکٹریکل انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ انھوں نے ایک ساتھ امریکی حکومت کی تعاون سے چلنے والی ایک خفیہ ترین تنظیم ڈارپا (ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹس ایجنسی) کے لیے کام کیا تھا۔
وفاقی استغاثہ کے مطابق وہ پھر تیاجن یونیورسٹی میں پروفیسر بن گئے، اور بعد میں انھوں نے جاسوسی شروع کر دی۔
عدالتی دستاویز کے مطابق 35 سالہ وی پینگ اور زاؤ ژینگ نے دو امریکی کمپنیوں اواگو ٹیکنالوجی اور سکائی ورکس سلوشنز سے تجارتی راز چوری کیے تھے، جہاں وہ ملازمت کرتے تھے۔
یہ ٹیکنالوجی بیش قیمت تھی۔ اس کا استعمال موبائل فون کی کارکردگی میں بہتری اور فوجی کمیونی کیشن کے لیے بھی ہو سکتا تھا۔
اقتصادی جاسوسی کی سازش کے مرتکب جن دیگر افراد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں 41 سالہ جن پنگ چن، 26 سالہ چونگ ژو، 34 سالہ ہوئیسوئی ژینگ اور 39 سالہ ژاو گینگ شامل ہیں۔
اسی دوران چینی جاسوسی کا ایک اور کیس ایک تنبیہہ ہو سکتی ہے کہ اس کی تفتیش بعض اوقات بے نتیجہ ثابت ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پھر شیری چن پر جاسوسی کا الزام لگا، جو چینی نژاد ہیں اور اوہائیو میں نیشنل ویدر سروس سے منسلک ہیں۔ حکام کے مطابق انھوں نے امریکہ کے پانی کے نظام کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں اور چینی حکام کے ساتھ اپنے روبط کے بارے میں غلط بیانی کی تھی۔
اپنے دفتر میں اپنی گرفتاری کے بارے میں انھوں بی بی سی کو بتایا تھا: ’اچانک دروازہ کھلا۔ وہ چھ ایف بی آئی اہلکار تھے۔ انھوں نے مجھے ہتھکڑیاں دکھائیں۔ میں نے ایف بی آئی اہلکاروں کو موقعے پر فرد جرم پڑھ کر سنانے کو کہا۔ لیکن پھر بھی مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں۔‘
شیری چن کو بتایا گیا کہ انھیں 25 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم ان کے خلاف مقدمات کو اچانک خارج کر دیا گیا اور انھوں نے دوبارہ اپنی زندگی معمول پر لانے کی کوشش کی۔
اس ہفتے ہاؤ ژینگ کے مقدمے کے بارے میں تفصیلات منظر عام پر آ رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس پر دو طرح کے لوگ خاص نظر رکھیں گے، وہ جو سمجھتے ہیں کہ چین واقعی ایک بڑا خطرہ ہے اور وہ جو سمجھتے ہیں کہ یہ محض مبالغہ آرائی ہے۔







