’سعودی جارحیت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
یمن میں حوثی باغیوں کے رہنما عبدالمالک الحوثی نے اعلان کیا ہے وہ مارچ کے آخر سے جاری سعودی اتحادیوں کی بمباری کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
ٹی وی پر خطاب میں عبدالمالک الحوثی کا کہنا تھا کہ حوثی کبھی بھی ’سعودی جارحیت‘ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔
دوسری جانب ساحلی شہر عدن سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شہر کے ہسپتالوں میں ادویات اور دیگر طبی سامان کی کمی کی وجہ سے زخمیوں کا علاج معالجہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
عبدالمالک الحوثی نے اپنے خطاب میں سعودی عرب پر ’یمنی لوگوں کے خلاف بغض رکھنے اور انھیں حقارت کی نظر سے دیکھنے‘ کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا کہ سعودی عرب کی سربراہی میں جاری بمباری کا مقصد القاعدہ کو تقویت دینا ہے۔
سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ الحوثی نے ایران کو ’ایک عظیم اسلامی ملک‘ قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف بھی کی۔
خیال رہے کہ سعودی عرب کے جنگ میں شامل ہونے کے بعد یہ الحوثی کا پہلا خطاب تھا۔
بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گیورن نے عدن سے بتایا ہے کہ شہر میں طبی ٹیموں کو شکایت ہے کہ ان پر زخمیوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور ساز و سامان کی کمی کی وجہ سے مریض ہلاک ہو رہے ہیں۔ طبی ٹیموں نے اپیل کی ہے کہ انھیں مزید اینٹی بائیوٹکس اور مرہم پٹی کا سامان مہیا کا جائے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
یاد رہے کہ گذشتہ چند ہفوں سے حوثی باغی اور ان کے اتحادیوں کی کوشش ہے کہ وہ عدن پر مکمل قبضہ کر لیں لیکن فضائی بمباری اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کے حمایتی دستوں کی جوابی کارروائیوں کی وجہ سے وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیر کو بھی عدن کے اس علاقے میں ایک بڑے دھماکے کا آواز سنی گئی جو باغیوں کے کنٹرول میں ہے جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ یہ ایک فضائی حملہ تھا جس کا نشانہ حوثیوں کا اسلحہ خانہ تھا۔ . کہا جا رہا ہے کہ آخر ہفتے کے دو دنوں میں فضائی بمباری اور دونوں حریفوں کے درمیان تصادم میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔
سنیچر کو بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے شہر میں ایک ہسپتال کا دورہ کیا تھا جہاں انھیں بتایا گيا کہ مناسب علاج نہ ہو پانے کی وجہ سے مریض دم توڑ رہے ہیں۔
دریں اثنا بین الاقوامی امدادی تنظیم اوکسفیم نے یمن پر سعودی بمباری کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے حوثی باغیوں کے شمالی مضبوط گڑھ سعدا میں انسانی امداد کے ساز و سامان کے کے ایک گودام کو نشانہ بنایا ہے۔
اوکسفیم کے کنٹری ڈائریکٹر گریس عمر نے کہا: ’ہم نے اتحادیوں سے اپنے مقامات اور گوداموں کے بارے میں بات چیت کر رکھی تھی۔ ہمارے گودام میں فوجی اہمیت کی کوئی چیز نہیں تھی بلکہ صرف انسانی امداد کی اشیا تھیں۔‘
سعودی عرب نے ابھی اس بابت کچھ نہیں کہا تاہم اس کا کہنا ہے کہ اہداف کو شہری ہلاکتوں سے بچنے کا خیال رکھتے ہوئے منتخب کیا جاتا ہے اور یہ کہ حوثی عام طور اسلحہ رہائشی علاقوں میں رکھتے ہیں۔







