حوثیوں کی عدن کے وسط کی جانب پیش قدمی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
عدن میں حوثی باغیوں اور صدر عبدالربہ منصور ہادی کی حامی ملیشیا کے درمیان تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وسطی عدن کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں باغیوں نے پیش قدمی کی ہے اور گولہ باری کے باعث کئی گھروں کو آگ لگی ہوئی ہے۔
شہر کے شمال میں سعودی جنگی جہازوں نے باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اطلات کے مطابق ایران نے بھی خلیج عدن کے جانب اپنے بحری جہاز بھیجے ہیں۔
ایران کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق ملک کی بحریہ کا کہنا ہے کہ یمن کے قریب جنگی بحری جہاز قزاقوں کےخلا مہم کے سلسلے میں بھیجے جا رہے ہیں تاکہ خطے میں بحری راستوں کو بحری جہازوں کی آمدو رفت کے لیے محفوظ بنایا جاسکے۔
واضع رہے کہ تہران پر سعودی عرب کی جانب سے حوثی باغیوں کو فوجی اور مالی مدد فراہم کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے جس کی ایران سختی سے تردید کرتا آیا ہے۔
صدر منصور ہادی کی ’جائز‘ حکومت کو بچانے کے لیےسعودی عرب کی حکومت حوثی باغیوں کے خلاف بھرپور فضائی کارروائی کر رہی ہے لیکن ابھی تک وہ باغیوں کی پیش قدمی روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
بدھ کے روز درجنوں باغی اور اور ان کے اتحادی فوجی شہر کی بندرگاہ کے قریبی علاقوں میں داخل ہوگئے تھے۔ خبر ساں ادارے روئٹرز کو مقامی لوگوں نے بتایا کے باغیوں کو ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کے مدد بھی حاصل تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضع رہے کہ دو ہفتے قبل صدر ہادی کو یمن چھوڑ کر سعودی عرب میں پناہ لینا پڑی تھی۔
حوثی قبائل نے کہا ہے کہ ان کا مقصد حکومت کو تبدیل کرنا ہے اور وہ اس پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں۔
ان کی حمایت سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجی کر رہے ہیں۔







