یمن: تحریر سکوائر یا خانہ جنگی

،تصویر کا ذریعہAFP
دارالحکومت صنعامیں اپنے پہلے مسلح مظاہرے کے محض ایک ماہ کے اندر اندر یمن میں حوثی شیعہ مزاحمتی گروہ نے حکومت کو ایک نئی قومی حکومت کی تشکیل پر رضامند کر لیا ہے۔
جس تیزی سے حوثیوں نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے اس سے پورا صنعا شہر حیرت میں ڈوب گیا ہے۔
آج دارالحکومت میں آپ کو جا بجا شیعہ جنگجو نظر آتے ہیں جو بڑی بے فکری کے ساتھ نشہ آور بوٹی چباتے ہوئے سرکاری عمارتوں کے سامنے ٹہل رہے ہیں۔
یہ بندوق بردار افراد جن پِک اپ ٹرکوں میں گھومتے ہیں ان کی نمبر پلیٹوں پر بھی رجسٹریشن نمبر کی بجائے ’آرمی ‘ لکھا نظر آتا ہے۔
صنعا پہنچنے سے پہلے حوثی بندوق برادروں اور فوج کے درمیان ملک کے شمال مغربی حصے میں ایک بڑی فوجی چھاونی میں گھمسان کی لڑائی ہوئی جس کے محض چار دن بعد یہ بندوق بردار دارالحکومت میں داخل ہوگئے جہاں انھوں نے کوئی گولی چلائے بغیر بڑی بڑی سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ نے سرکاری سکیورٹی اہلکاروں کو کہہ دیا کہ وہ ایک طرف ہو جائیں اور بندوق برداروں کے خلاف کوئی مزاحمت نہ کریں۔ اس اعلان کے دو گھنٹے کے اندر اندر صنعا کا کنٹرول جنگجوؤں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور شہر کے باسیوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
ورطۂ حیرت میں ڈوبے ہوئے کچھ مرد اپنے گھروں سے باہر نکل کر گلیوں میں آئے کہ دیکھیں آخر ہوا کیا ہے، جبکہ زیادہ تر لوگ کچھ گھنٹے پہلے شہر میں پھٹنے والے گولوں کی گھن گرج سے ابھی تک پریشان تھے اور انھوں نے گھر کے اندر ہی دبکے رہنے میں خیریت جانی۔
جب شہر میں نووارد بندوق بردار مختلف سڑکوں پر چیک پوائنٹ یا چوکیاں بنا رہے تھے تو ان کے سیاسی رہنماؤں نے صدارتی محل کا رخ کیا جہاں انھوں نے حکومتی نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد ایک ماہ سے جاری تنازعے کو ختم کرنا بتایا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن معاہدے کی دستاویز پر سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی حوثی مزاحمت کاروں کی فتح مکمل ہو چکی تھی۔
بہت کم لوگوں کا خیال تھا کہ اس گروہ نے ملک کے شمالی علاقے کی جانب جس پیش قدمی کا آغاز کم و بیش چھ ماہ پہلے کیا تھا اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ لوگ دارالحکومت صنعا پر اپنا کنٹرول اتنی آسانی سے قائم کر لیں گے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ زیادہ لوگوں کو شک ہے کہ اس سارے معاملے میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کا ہاتھ ہے جنھیں سنہ 2011 میں ایک عوامی تحریک کے ہاتھوں اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑ گئے تھے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ سابق صدر نے اپنی مخالف جماعت ’اصلاح پارٹی‘ کے حامی قبائلی جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں میں حوثی بندوق برداروں کو مدد فراہم کی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اور یوں حوثی جنگجوؤں نے وہ کر دکھایا جو علی عبداللہ صالح خود سنہ 2011 سے کرنے کی کوشش کر رہے تھے، یعنی ان قبائلی گروہوں کا صفایا کرنا جو کہ اصلاح پارٹی کی اصل طاقت رہے ہیں۔ حوثی جنگجوؤں نے سابق صدر کی یہ دیرینہ خواہش بھی پوری کر دی کہ انھوں نے صدر کے سب سے بڑے مخالف میجر جنرل علی محسن الاحمر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
میجر جنرل علی محسن الاحمر ہی وہ جنرل ہیں جوگزشتہ عرصے میں موجودہ صدر عبدالرباح منصور حادی کے دست راست کے طور پر کام کر رہے تھے اور صنعا پر کامیاب چڑہائی کے بعد سے حوثی جنگجو جنرل محسن کو بے چینی سے تلاش کر رہے ہیں۔
ایک قدیمی طرز کی بندوق کاندھے سے لٹکائے ہوئے حوثی جنگجو کا کہنا تھا: ’ اگر جنرل محسن ہمیں مِل جاتے ہیں تو ہم انھیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔‘
حوثی رضاکار صنعا کے ایئر پورٹ سے بیرونِ ملک جانے والی تمام پروازوں کی مکمل جانچ پڑتال کر رہے ہیں تا کہ جنرل محسن اور ان کے دیگر مخالف سیاسی اور حکومتی اہلکار ملک سے فرار نہ ہو پائیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک ایسے وقت میں جب حوثی باغی شہر کے مشہور تحریر سکوائر میں ایک ’کامیاب انقلاب‘ کے گن گا رہے ہیں ملک کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔
یمن میں آگے کیا ہونے جا رہا ہے، اس بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ نئے معاہدے کے تحت ایک ماہ میں نئی حکومت تشکیل دی جائے گی جس میں تمام فریقوں کو نمائندگی دی جائے گی اور ایک نیا وزیرِ اعظم بھی تعینات کیا جائے گا۔
معاہدے کی شرائط اپنی جگہ، لیکن اس بات کے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ حوثی جنگجو دارالحکومت سے جلد واپس جا رہے ہیں۔







