’سعودی عرب ایران کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ یمن کے مسئلے پر ان کا ملک ایران کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزیرِ خارجہ نے فرانسیسی ہم منصب کے ہمراہ ریاض میں میڈیا سے گفتگو میں اس امید کا اظہار کیا کہ ایرانی حکومت اس مسئلے کو یمن میں اندرونی طور پر حل کیے جانے کی پالیسی اپنائے گی اور یمن کی قانونی حکومت کے خلاف مجرمانہ کارروائیاں کرنے والوں کو کوئی مدد فراہم نہیں کرے گی۔
انھوں نے توقع ظاہر کی کہ ایران حوثی باغیوں کو لڑائی جاری رکھنے کے لیے ہتھیار فراہم نہیں کرےگا۔
تاہم سعودی وزیرِ خارجہ نے ایران کی جانب سے یمن میں جنگ بند کرنے کی اپیل پر تبصرے میں حیرت کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک سال قبل جب یمن میں فریقین کے درمیان قتل و غارت بڑھ رہی تھی انھیں ایران کے اس وقت کے موقف پر تعجب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یمن کی تعمیرو ترقی میں کبھی بھی ایران کے کردار کے بارے میں نہیں سنا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یمن کی حکومت نے سعودی عرب کو وہاں امن قائم کرنے کے لیے مدد کی اپیل کی تھی۔ جس کے جواب میں سعودی عرب نے یمن کو خلیجی ممالک کی تعاون تنظیم جی سی سی کے ساتھ مل کر مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی صدر براک اوباما اور جی سی سی میں شامل ممالک کے درمیان ممکنہ طور پر رواں ماہ کے آخر میں ایک ملاقات ہوگی۔
سعودی وزیرِ حارجہ نے یمن کے معاملے پر روسی موقف کو غیر واضح قرار دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ روس کی درخواست پر گذشتہ دنوں اقوام متحدہ کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ روس نے یمن میں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاہم ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ سامنے نہیں آسکا۔
پاکستان سے مثبت توقعات

،تصویر کا ذریعہAP
ادھر سعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور شیخ صالح بن عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ یمن کے حوالے سے پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے تاہم سعودی عرب کو پاکستان سے اچھی توقعات وابستہ ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس ذرائع کے مطابق سعودی وزیر شیخ صالح بن عبدالعزیز پیر کو وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ نے گذشتہ روز یمن کے تنازعے میں پاکستان کے غیر جانبدار رہنے کے فیصلے پر اپنے ردِ عمل میں کہا تھا کہ <link type="page"><caption> متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ کی تنبیہ پاکستانی قوم کی عزتِ نفس کی ہتک کے مترادف ہے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/04/150412_pakistan_reaction_uae_minister_statement_zs" platform="highweb"/></link>۔
سرکاری ریڈیو کے مطابق اتوار کو اسلام آباد پہنچنے کے بعد اپنے ابتدائی بیان میں سعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی برادرانہ اور دوستانہ تعلقات ہیں اور مستقبل میں یہ مزید بڑھیں گے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے یمن جنگ میں برّی، بحری اور فضائی مدد مانگ رکھی ہے۔
سینکڑوں حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہAP
سعودی حکومت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یمن میں جاری آپریشن عزم طوفان میں 500 سے زائد حوثی باغیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
یمن میں سعودی اتحاد کے ترجمان بریگیڈئر اسیری سے جب اس دعوے سے متعلق اتوار کو ریاض میں ہونے والی پریس کانفرنس میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ یہ دعویٰ سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کی جانب سے کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کارروائی سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ ہورہی ہے اور وہاں موجود باغیوں اور ان کے زیرِ استعمال گاڑیوں کی تعداد کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
’ معلومات حاصل کرنے کے لیے بہت سی صلاحیتیں موجود ہیں جیسے کہ کیمرے، ویڈیو بنانے کے آلات، اپاچی ہیلی کاپٹر۔‘
انھوں نے کہا کہ بتایا کہ یمن کو خلیجی ممالک سے طویل عرصے تک مدد ملتی رہی اور سعودی عرب نے وہاں ایک طویل عرصے تک اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اور اب بھی جب وقت آئے گا تو وہاں تعمیرِ نو میں کسی کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ حوثی باغیوں پر زہریلے اور کیمیکل ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان نے سعودی عرب اور ایران کی سرحد پر ہونے والی جھڑپ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حوثی باغی عدم تحفظ کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ سرحد کے دونوں اطراف میں موجود دیہات کی وجہ سے اہداف کو مارٹر گولوں اور شیلنگ سے نشانہ بنانا بھی مشکل ہے اور آپریشن عزمِ طوفان میں اس اقدام سے گریز جا رہا ہے۔ تاہم انھوں نےیہ دعویٰ بھی کیا کہ سعودی سرحد محفوظ ہے اور کوئی اس کا ایک سینٹی میٹر حصہ بھی کنٹرول نہیں حاصل کرسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر موجود قبائلی رہنماؤں اور پاپولر کمیٹی کو اتحادی فوج کی مدد حاصل ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب کا موقف ہے کہ یمنی حکومت کی درخواست پر اب یمن جانے والے بحری راستے بھی بند کیے جار ہے ہیں تاکہ حوثی باغیوں کو باہر سے ملنے والی مدد کو روکا جا سکے۔
.







