’یمن نے ایران کا امن منصوبہ مسترد کر دیا‘

،تصویر کا ذریعہReuters
یمن نے ایران کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں پیش کیے گئے چار نکاتی امن منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئیٹرز کے مطابق سنیچر کو یمنی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کی جانب سے یمن میں قیامِ امن کے لیے دیے جانے والے منصوبے کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
ایران کی جانب سے پیش کیے جانے والے امن منصوبے میں یمن میں تمام غیر ملکی حملوں کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اس منصوبے میں یمن میں متاثرینِ جنگ کو امداد کی فراہمی، قومی سطح پر مذاکرات کی بحالی اور ایک مشترکہ قومی حکومت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔
یمنی حکومت کے ترجمان راجیشن بدی جو کہ اس وقت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود ہیں نے روئیٹرز کو ٹیلی فون پر بتایا ’ہم ایران کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔‘ انھوں نے اسے ایران کی جانب سے ایک سیاسی چال قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ 25 مارچ کو یمن میں سعودی عرب نے فضائی مداخلت کا آغاز کیا تھا۔ سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ یمن میں موجود شیعہ حوثی باغیوں کو ایرانی حکومت کی مدد حاصل ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکومت نے حوثی باغیوں کی حمایت کرنے یا انھیں کسی بھی قسم کی فوجی امداد دینے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعے کو صدر اوباما نے سعودی عرب کے بادشاہ سے رابطہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے یمن کے مسئلے کے سیاسی حل پر اتفاق کیا۔
سعودی حکومت کا موقف ہے کہ وہ حوثی باغیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے فضائی حملے جاری رکھے گی تاکہ وہ ملک سے باہر موجود یمنی حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہوں۔
’سعودی سرحد پر حملے کی تیاریاں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یمن میں باغیوں کے خلاف سعودی اتحاد کے ترجمان بریگیڈیر اسیری نے سنیچر کو میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں جن سے تصدیق ہوئی ہے کہ حوثی باغی سعودی عرب کی سرحد پر حملے کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ داارلحکومت صنعا سے ملیشیا مسلح ہو کر شمال کی جانب بڑھ رہی ہیں اور اتحادی فوج ان پیش قدمیوں کا پیچھا کر رہی ہے اور انھیں تباہ کر رہی ہے۔
اتحادی فوج کے ترجمان نے مزید بتایا کہ حوثی باغی اور صدا میں موجود ان کے حامی گروہ سعودی عرب کی جنوبی سرحد پر کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں سعودی زمینی فوج کے ساتھ ان کی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ انِ جھڑپوں میں ایک سعودی فوجی ہلاک ہوا۔ تاہم بریگیڈئیر اسیری نے دعویٰ کیا کہ باغیوں کی کارروائیاں بڑھنے کے باوجود سعودی عرب کی جنوبی سرحد محفوظ رہے گی۔
بریگیڈئیر اسیری کے مطابق یمن میں موجود باغی حکومت کے حامی شہریوں کوگرفتار کر کے ہراساں کر رہے ہیں۔ انھوں نے بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر چیک پوسٹیں بنا رکھی ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ شہریوں کے علاوہ امدادی اداروں کے کارکنان کو بھی خوفزدہ کیا جا رہا ہے اور ’لہج‘ میں امدادی کارکنان کو اغوا کیا گیا۔
سعودی حکام کے مطابق باغیوں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن غزمِ طوفان میں اب تک کیے جانے والے فضائی حملوں کی تعداد 2000 سے زائد ہے۔







