’یمن نے ایران کا امن منصوبہ مسترد کر دیا‘

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی اتحاد میں کل دس ممالک شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی اتحاد میں کل دس ممالک شامل ہیں

یمن نے ایران کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں پیش کیے گئے چار نکاتی امن منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئیٹرز کے مطابق سنیچر کو یمنی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کی جانب سے یمن میں قیامِ امن کے لیے دیے جانے والے منصوبے کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

ایران کی جانب سے پیش کیے جانے والے امن منصوبے میں یمن میں تمام غیر ملکی حملوں کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اس منصوبے میں یمن میں متاثرینِ جنگ کو امداد کی فراہمی، قومی سطح پر مذاکرات کی بحالی اور ایک مشترکہ قومی حکومت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔

یمنی حکومت کے ترجمان راجیشن بدی جو کہ اس وقت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود ہیں نے روئیٹرز کو ٹیلی فون پر بتایا ’ہم ایران کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔‘ انھوں نے اسے ایران کی جانب سے ایک سیاسی چال قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ 25 مارچ کو یمن میں سعودی عرب نے فضائی مداخلت کا آغاز کیا تھا۔ سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ یمن میں موجود شیعہ حوثی باغیوں کو ایرانی حکومت کی مدد حاصل ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکومت نے حوثی باغیوں کی حمایت کرنے یا انھیں کسی بھی قسم کی فوجی امداد دینے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعے کو صدر اوباما نے سعودی عرب کے بادشاہ سے رابطہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے یمن کے مسئلے کے سیاسی حل پر اتفاق کیا۔

سعودی حکومت کا موقف ہے کہ وہ حوثی باغیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے فضائی حملے جاری رکھے گی تاکہ وہ ملک سے باہر موجود یمنی حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہوں۔

’سعودی سرحد پر حملے کی تیاریاں‘

سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ اس نے اب تک فضائی کارروائیوں میں 500 سے زاید باغیوں کو ہلاک کیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ اس نے اب تک فضائی کارروائیوں میں 500 سے زاید باغیوں کو ہلاک کیا ہے

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یمن میں باغیوں کے خلاف سعودی اتحاد کے ترجمان بریگیڈیر اسیری نے سنیچر کو میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں جن سے تصدیق ہوئی ہے کہ حوثی باغی سعودی عرب کی سرحد پر حملے کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ داارلحکومت صنعا سے ملیشیا مسلح ہو کر شمال کی جانب بڑھ رہی ہیں اور اتحادی فوج ان پیش قدمیوں کا پیچھا کر رہی ہے اور انھیں تباہ کر رہی ہے۔

اتحادی فوج کے ترجمان نے مزید بتایا کہ حوثی باغی اور صدا میں موجود ان کے حامی گروہ سعودی عرب کی جنوبی سرحد پر کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں سعودی زمینی فوج کے ساتھ ان کی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ انِ جھڑپوں میں ایک سعودی فوجی ہلاک ہوا۔ تاہم بریگیڈئیر اسیری نے دعویٰ کیا کہ باغیوں کی کارروائیاں بڑھنے کے باوجود سعودی عرب کی جنوبی سرحد محفوظ رہے گی۔

بریگیڈئیر اسیری کے مطابق یمن میں موجود باغی حکومت کے حامی شہریوں کوگرفتار کر کے ہراساں کر رہے ہیں۔ انھوں نے بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر چیک پوسٹیں بنا رکھی ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ شہریوں کے علاوہ امدادی اداروں کے کارکنان کو بھی خوفزدہ کیا جا رہا ہے اور ’لہج‘ میں امدادی کارکنان کو اغوا کیا گیا۔

سعودی حکام کے مطابق باغیوں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن غزمِ طوفان میں اب تک کیے جانے والے فضائی حملوں کی تعداد 2000 سے زائد ہے۔