سعودی عرب سے وفد کی واپسی پر اعلیٰ سطحی اجلاس

،تصویر کا ذریعہPID
وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی زیرِ قیادت سعودی عرب جانے والے وفد کی وطن واپسی پر جمعرات کو اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں فوج کے سربراہ راحیل شریف نے بھی شرکت کی۔
سعودی عرب جانے والے وفد نے اس اجلاس کو سعودی حکام سے اپنی بات چیت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔
اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے تحریری بیان میں کہا گیا کہ سعودی حکومت کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی یمن سے متعلق قرارداد پر عملدرآ مد کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
وفد کے شرکا نے اجلاس کو بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستان نے ممنکہ طور پر سعودی عرب کے ساتھ جاری تعاون کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی مناسبت اور پاکستان کی پارلیمان کی جانب سے متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرارداد کےدسویں اور 11ویں نکتے کے مطابق آگے بڑھانے پر بھی بات کی ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب نے یمن میں فوجی کارروائی شروع کرنے کے بعد پاکستان سے عملی فوجی تعاون کی باقاعدہ درخواست کی تھی جسے موجودہ حکومت نے پارلیمان کی متفقہ قرار داد کے بعد رد کر دیا تھا۔ اس کے بعد سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان درینہ سفارتی تعلقات میں کشیدگی کا عنصر پیدا ہو گیا تھا۔
سعودی عرب 25 مارچ سے دس ممالک کے ساتھ مل کر یمن میں موجود حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے 14 اپریل کو حوثی باغیوں پر پابندی عائد کر دی تھی تاہم باغیوں نے اسے ’جارحیت کی مدد‘ قرار دیا تھا۔
وزیراعظم ہاؤس کے مطابق جمعرات کی دوپہر تین بجے کے قریب شروع ہونے والا یہ تفصیلی اجلاس شام گئے تک جاری رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریڈیو پاکستان کے مطابق تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی اجلاس میں موجود تھے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی سربراہی میں سعودی عرب جانے والے وفد میں وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اور خارجہ امور سرتاج عزیز اور سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری بھی شامل تھے۔
سفارتی رابطے
حکومتِ پاکستان یمن کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں میں بھی مصروف دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان سعودی عرب سے رابطوں کے علاوہ ایران کے ساتھ بھی بات چیت کر رہا ہے۔ جبکہ جمعرات کو پاکستان کے وزیرِدفاع نے روسی ہم منصب سے ماسکو میں ملاقات کی۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یمن کے مسئلے کا طاقت کے بجائے بات چیت سے حل ہونا چاہیے
سعودی عرب کا الزام ہے کہ حوثی باغیوں کو ایران کی مدد حاصل ہے۔ اقوامِ متحدہ نے منگل کو حوثی باغیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ روس نے سعودی عرب سے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر عارضی جنگ بندی کی اپیل کی تھی تاہم اسے نظر انداز کر دیا گیا۔
پاکستان کے وزیراعظم نے اس سلسلے میں اب تک صرف ترکی کا دورہ کیا ہے جو سعودی عرب کے ساتھ جنگ میں حصہ لے رہا ہے۔
نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق پاکستان نے یمن میں حکومت کا تختہ الٹنے والے حوثی باغیوں کے ساتھ براہ راست رابطے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نےجمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں یمن میں حوثی باغیوں کے ساتھ رابطوں کے لیے وفد بھیجنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حوثی کسی ریاست کی نمائندگی نہیں کرتے۔
’وہ ایسے غیر ریاستی عناصر ہیں جن کے اقدامات کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ لیکن ہم ان سمیت یمن کی لڑائی میں ملوث تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مذاکرات کی جانب آئیں۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس جنگ سے سعودی سرزمین کو لاحق خطرات کے بارے میں صورتحال کا تجزیہ کر رہا ہے۔
’سعودی عرب کو لاحق ممکنہ خطرات کا اندازہ لگانے کا عمل مسلسل جاری ہے۔ اس سلسلے میں ہم سعودی حکومت کے ساتھ ٹیلی فون پر بھی مسلسل رابطے میں ہیں اور آج ہی ایک وفد بھی سعودی حکام سے مذاکرات کے بعد پاکستان پہنچا ہے۔‘
یاد رہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے برّی، بحری اور فضائی مدد مانگ رکھی ہے تاہم پاکستانی پارلیمان کی ایک قرارداد میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ یمن کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں کرے۔ بعدازاں پاکستان کے وزیراعظم کو بھی اس وقت ایکسرکاری بیان جاری کرنا پڑاجب متحدہ عرب امارات کے ایک وزیر کی جانب سے پاکستان کو جنگ میں ساتھ نہ دینے پر بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔
تاہم سعودی عرب کی جانب سے جاری ابتدائی بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے فوجی اتحاد کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں جاری مہم پر اثرانداز نہیں ہو گا۔







