سلامتی کونسل کی پابندی ’جارحیت کی مدد‘ کے مترادف: حوثی

،تصویر کا ذریعہepa
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے حوثی باغیوں کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی کو حوثی باغیوں نے ’جارحیت کی مدد‘ قرار دیتے ہوئے قرارداد کی مذمت کی ہے۔
حوثی باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات کو لوگ اقوام متحدہ کی اس قرارداد کے خلاف مظاہرے کریں۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے منگل کو یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی عائد کی تھی۔
سلامتی کونسل نے حوثی باغیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کر دیں اور صنعا سمیت دیگر زیرِ قبضہ علاقوں سے نکل جائیں۔
دریں اثنا ایران نے ایک چار نکاتی امن معاہدہ تیار کیا ہے جو بدھ کے روز اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہb
ایران کی طرف سے تیار کردہ چار نکاتی امن منصوبے میں سعودی عرب کی طرف سے یمن پر بمباری کو بند کرنے کا نکتہ بھی شامل ہے جو ممکنہ طور پر سعودی عرب کے لیے قابل قبول نہیں ہو گا۔ سعودی عرب ایران پر یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن رپبلکن گارڈ کے سابق سربراہ احمد صالح اور حوثی قبائل کے رہنما بدالمالک الحوثی پر بیرون ملک سفر کی پابندی عائد کر دی اور ان کے بین الاقوامی اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔
صالح کے والد اور سابق صدر علی عبداللہ صالح اور حوثی قبائل کے دو دیگر رہنماؤں عبدالخاق الحوثی اور یحیی الحکیم کو سلامتی کونسل نے گذشتہ برس نومبر میں ’بلیک لسٹ‘ کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سلامتی کونسل نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی طرف سے کیے جانے والے ایسے اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جن کی وجہ سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔
یمن کو موجودہ بحران سے دو چار کرنے کا بڑی حد تک ذمہ دار علی عبداللہ صالح کو قرار دیا جاتا ہے جو 2012 میں صدارت چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سلامتی کونسل میں 14 ارکان نے اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ روس نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور کہا کہ اس کی طرف سے تجویز کردہ بعض نکات کو قرار داد کے متن میں شامل نہیں کیا گیا۔
روس کے نمائندے ویتیلے چورکن نے سلامی کونسل میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ قرارداد کو پیش کرنے والوں نے روس کی اس تجویز کو قرارداد میں شامل کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں تنازعے میں ملوث تمام فریقوں پر جنگ بندی کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعے کا حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔







