جنوبی یمن کی بندرگاہ اور ہوائی اڈے پر القاعدہ کا قبضہ

یمنی حکام کے مطابق القاعدہ کے جنگجوؤں نے جنوبی یمن میں واقع بندرگاہ اور تیل کے ذخیرے پر بھی قبضہ کر لیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیمنی حکام کے مطابق القاعدہ کے جنگجوؤں نے جنوبی یمن میں واقع بندرگاہ اور تیل کے ذخیرے پر بھی قبضہ کر لیا ہے

یمن کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی علاقے میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے ہوائی اڈے، بندرگاہ اور تیل کے ٹرمینل پر قبضہ کر لیا ہے۔

یمن کے جنوبی علاقے میں حضر موت صوبے میں اہم بندرگاہ کے شہر مکلا میں یمن کی فوج اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر فرار ہو گئی ہے۔

القاعدہ نے ملک میں جاری مسلح تصادم کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں القاعدہ نے مکل پر حملہ کر کے وہاں کی جیلوں سے متعدد قیدی رہا کرا لیے تھے۔

یمنی حکام کے مطابق القاعدہ کے جنگجوؤں نے جنوبی یمن میں واقع بندرگاہ اور تیل کے ذخیرے پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

ایک طرف جب سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کر رہے ہیں تو دوسری جانب یمن کے نائب وزیر اعظم خالد بحاح کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب اور اتحادیوں کی زمینی کارروائی کے حق میں نہیں ہیں۔

ہم اب بھی امید کرتے ہیں کہ کچھ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ ہم جنگ کو مزید وسیع نہیں کرنا چاہتے بلکہ روکنا چاہتے ہیں: خالد بحاح

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہم اب بھی امید کرتے ہیں کہ کچھ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ ہم جنگ کو مزید وسیع نہیں کرنا چاہتے بلکہ روکنا چاہتے ہیں: خالد بحاح

یہ افواہیں زور پکڑتی جا رہی ہیں کہ فضائی کارروائی کے باوجود حوثی باغیوں کی پیش قدمی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اتحادی زمینی کارروائی کا سوچ رہے ہیں۔

خالد بحاح کا کہنا ہے: ’ہم اب بھی امید کرتے ہیں کہ کچھ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ ہم جنگ کو مزید وسیع نہیں کرنا چاہتے بلکہ روکنا چاہتے ہیں۔‘

اس سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کے یمن میں خصوصی ایلچی جمال بن عمر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اقوام متحدہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس عہدے کے لیے جلد ہی نئے نام کا اعلان کریں گے اور امن کی کوششوں کو بحال کریں گے۔

مراکش سے تعلق رکھنے والے سفارت کار جمال ب نعمر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یمن میں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے پر ناکامی کے باعث سعودی عرب اور اتحادیوں نے ان پر مستعفی ہونے کا دباؤ ڈالا تھا۔