یو اے ای میں استحکام کی قیمت کیا ہے؟

ان سب باتوں کے باوجود اس بات میں بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات دنیا کے امیر اور مستحکم ترین ممالک میں سے ایک ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنان سب باتوں کے باوجود اس بات میں بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات دنیا کے امیر اور مستحکم ترین ممالک میں سے ایک ہے

متحدہ عرب امارات کو بین الاقوامی طور پر کاروباری سرگرمیوں اور سیاحوں کی آمد کے حوالے سے مشرقِ وسطیٰ کا محفوظ ترین ملک تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم خلیجی ممالک کے امور کے ماہر کرسٹوفر ڈیوڈسن کا کہنا ہے کہ یو اے ای کی چکا چوند اور گلیمر کے باجود یہاں کسی باغی کو برداشت نہیں کیا جاتا۔

فروری کے وسط میں تین اماراتی بہنوں عاصمہ، مریم اور الزیہ عیسیٰ السویدی کو ابو ظہبی کے پولیس سٹیشن طلب کیا گیا اور اس کے بعد انھیں اب تک کسی نے نہیں دیکھا۔

ان تینوں بہنوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائی عیسیٰ السویدی کے حق میں ٹویٹ کر رہی تھیں۔

عیسیٰ السویدی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دوسرے افراد کی طرح ایک عرصے سے جیل میں ہیں اور ان پر مبینہ طور پر ’بغاوت‘ کی حمایت کا الزام ہے۔

عیسیٰ السویدی کی بہن عاصمہ نے ٹویٹ کیا: ’میں نے بہت تلاش کیا تاہم مجھے اپنے بھائی کو گذشتہ دس سالوں سے قیدِ تنہائی میں زندگی سے محروم رکھنے کا حکومتی موقف کا کوئی مناسب جواز نہیں ملا۔‘

عرب امارات اس لیے بچی ہوئی ہے کہ اس کی آبادی بہت کم ہے، تیل کے وسائل بےتحاشا ہیں اور اس کی سب سے بڑی امارت ابوظہبی میں دولت کی تقسیم نسبتاً بہتر ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعرب امارات اس لیے بچی ہوئی ہے کہ اس کی آبادی بہت کم ہے، تیل کے وسائل بےتحاشا ہیں اور اس کی سب سے بڑی امارت ابوظہبی میں دولت کی تقسیم نسبتاً بہتر ہے

عیسیٰ السویدی کی دوسری بہن الزیہ عیسیٰ السویدی نے ’انوسینٹ پیپل بی ہائینڈ بارز نامی ہیش ٹیگ‘ کے ذریعے اپنے بھائی کی رہائی کی کوشش شروع کی کیونکہ ان کے خیال میں ان کے بھائی کو ’حکام نے توڑ پھوڑ دیا ہے۔‘

لیکن متحدہ عرب امارات جیسے ’اعتدال‘ پسند ملک میں ایسی گرفتاریوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

ان سب باتوں کے باوجود اس بات میں بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات دنیا کے امیر اور مستحکم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔

صحافی ٹامس فرائیڈ مین نے گذشتہ برس نومبر میں امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ میں اپنے کالم میں متحدہ عرب امارات کو عرب سپرنگ کا ذمہ دار قرار دیا۔

ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ نوجوان عرب جنھیں یہ احساس ہو گیا ہے کہ وہ کبھی جمہوریت سے حاصل نہیں کر سکیں گے، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کم از کم دبئی ہی مل جائے۔

تاہم اس بحث کے قطح نظر عرب دنیا کی حکمتِ عملی کو ہی عرب سپرنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کی وجوہات میں سے ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ لاکھوں افراد نے مصر، تیونس اور دیگر جگہوں پر ہونے والی غیر مساوی معاشروں پر اپنا ردِ عمل ظاہر کیا تھا۔

یو اے ای میں پبلک سیکٹر کے لیے تنخواہوں میں بے پناہ اضافے کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں کے لیے 20 سے زائد اضافی رقم بھی مختص کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیو اے ای میں پبلک سیکٹر کے لیے تنخواہوں میں بے پناہ اضافے کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں کے لیے 20 سے زائد اضافی رقم بھی مختص کی گئی ہے

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عرب دنیا میں شروع ہونے والی سپرنگ نے یو اے ای کو زیادہ متاثر نہیں کیا حالانکہ دوسری خلیجی ریاستوں بحرین کویت، امان اور سعودی عرب میں لاکھوں افراد احتجاج کرتے ہوئے سٹرکوں پر آ گئے۔

عرب امارات اس لیے بچی ہوئی ہے کہ اس کی آبادی بہت کم ہے، تیل کے وسائل بےتحاشا ہیں اور اس کی سب سے بڑی امارت ابوظہبی میں دولت کی تقسیم نسبتاً بہتر ہے۔

تاہم اگر تیل کی قیمتیں کم ہوتی رہیں تو ایسی پرکشش تنخواہیں ہمیشہ نہیں چل سکتیں۔

یو اے ای میں پبلک سیکٹر کے لیے تنخواہوں میں بے پناہ اضافے کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں کے لیے 20 سے زائد اضافی رقم بھی مختص کی گئی ہے۔

یہ بات بھی یو اے ای کے عزم کو ظاہر کرتی ہے اس نے حکومتی معاملات میں کسی بھی سیاسی بحث کی اجازت نہیں دی۔

سنہ 2013 میں یو اے ای میں 94 شہریوں کو عدالتوں میں پیش کیا گیا اور اس میں بین الاقوامی صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یو اے ای میں 69 افراد جن میں عیسیٰ السویدی کے علاوہ طالب علم بھی شامل ہیں کو ’ریاست کی سکیورٹی کو نقصان پہنچانے کے جرم میں 15 برس کی سزا سنائی گئی۔

اصلاح تحریک کے کبھی حکمران شامی خاندانوں کے ساتھ بہت اچھے مراسم رہے تھے یہاں تک کہ اس کا یو اے ای کے اسلامی کاموں اور تعلیم میں کافی عمل دخل تھا۔

تاہم اصلاح مومینٹ جو یو اے ای میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کرتی آئی ہے اسے بھی سنہ 1971 کے آئین کے تحت حکومت کے خلاف براہِ راست بغاوت کا ذمہ دار قراد دیا جا چکا ہے۔